Main Icon

باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1868

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي ذَرِّ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: "هُمُ الأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ" فَقُلْتُ: فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي مَنْ هُمْ؟ قَالَ: "هُمُ الأَكْثَرُونَ أَمْوَالًا إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا؛ مِنْ بَين يَدَيْهِ وَمن خَلْفِهِ وَعَنْ يَمِيْنِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي ذر قال: انتهيت إلى النبي -صلی اللہ عليه وسلم- وهو جالس في ظل الكعبة، فلما رآني قال: "هم الأخسرون ورب الكعبة" فقلت: فداك أبي وأمي من هم؟ قال: "هم الأكثرون أموالا إلا من قال هكذا وهكذا وهكذا؛ من بين يديه ومن خلفه وعن يمينه وعن شماله، وقليل ما هم". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو ذر سے فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا حضور کعبہ کے سایہ میں جلوہ گر تھے جب حضور نے مجھے دیکھا تو فرمایا رب کی قسم وہ لوگ بڑے خسارے میں ہیں ۱؎ میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر فدا وہ کون لوگ ہیں فرمایا بڑے مالدار لوگ بجز اس کے جو یوں اور یوں اور یوں دے۲؎ یعنی آگےپیچھے دائیں بائیں اور وہ ہیں بہت تھوڑے ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت ابو ذر غفاری وہ ہیں جنہوں نے امیری پر لات مار کر فقیری اختیار کی تھی،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہمت افزا کلام ان کی عزت افزائی کے لیے فرمایا یعنی اے ابو ذر تم خسارہ میں نہیں خسارہ میں عمومًا مالدار لوگ ہیں۔
۲
؎یہاںقَالَبمعنیفَعَلَہے اورفعلسے مراد صدقہ و خیرات،یہ محاورہ عربی میں بہت عام ہے۔ (لمعات)یعنی وہ سخی جو بلا گنتی دونوں ہاتھ بھر بھر کر نیکیوں میں خرچ کرے خسارہ میں نہیں۔
۲
؎ان چار سمتوں سے مراد ہر نیکی ہر جگہ نیکی ہر حال میں نیکی کرنا ہے اپنے وطن میں بھی خرچ کرے،حرمین شریفین میں بھی بھیجے،جہاں مسلمانوں کو یا اسلام کو ضرورت ہو وہاں پہنچائے۔واقعی ایسی توفیق والے تھوڑے مالدار ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے: "وَقَلِیۡلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوۡرُ"۔عمومًا مالداروں پر فضول خرچیوں،بدکاریوں اور عیاشیوں کے دروازے کھل جاتے ہیں، اللہ تعالٰی عثمان غنی کے خزانہ کا پیسہ عطا فرمائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1868