Main Icon

باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5505

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُم ابنُ مَرْيَم حكَمًا عَدْلًا، فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ، وَيَفِيضُ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ حَتَّى تَكُونَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا"ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: فاقرؤا إِن شئْتم {وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ} الآيَةمُتَّفقٌ عَلَيْهِ.

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "والذي نفسي بيده ليوشكن أن ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا، فيكسر الصليب ويقتل الخنزير، ويضع الجزية، ويفيض المال حتى لا يقبله أحد حتى تكون السجدة الواحدة خيرا من الدنيا وما فيها"ثم يقول أبو هريرة: فاقرؤا إن شئتم {وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته} الآيةمتفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے قریب ہے کہ تم میں ۱∞؎ابن مریم حاکم عادل ہوکر اتریں وہ صلیب کو توڑیں گے سؤروں کو فنا کردیں گے۲؎جزیہ کو ختم فرمادیں گے،مال کو بہادیں گے حتی کہ اسے کوئی قبول نہ کرے گا حتی کہ ایک سجدہ دنیا اور دنیا کی چیزوں سے بہتر ہوگا۳؎پھر جناب ابوہریرہ فرماتے تھے کہ اگرچاہو تو یہ آیت پڑھو کہ کوئی اہل کتاب سے نہیں مگر وہ ان پر ان کی وفات سے پہلے ایمان لے آوے گا۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی تم مسلمانوں میں وہ آئیں گے نہ کہ تم صحابہ میں۔۲؎اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ سؤروں کا شکار کرتے رہیں گے بلکہ مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کو نہ کافر رہنے کی اجازت ہوگی،نہ سؤر کھانے شراب پینے کی،اس وقت کفار کے لیے دو ہی صورتیں ہوں گی: یا اسلام یا قتل،یہ حضور ہی کا حکم ہے جس کا ظہور اس دن ہوگا۔۳؎یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کی برکت سے دنیاوی مال دلی تقویٰ بہت ہی ہوجائے گا،سارے لوگ متقی پرہیزگار عبادت گزار شب بیدار ہوجائیں گے۔معلوم ہوا کہ بزرگوں کے دم قدم سے زمانے بدل جاتے ہیں،دل تقویٰ سے بھر جاتے ہیں،دلوں پر ان کا اثر پڑتا ہے،یہ حضرات لوگوں کے دل رنگ دیتے ہیں۔لوگ سوچ لیں کہ کیا مرزائے قادیان کے زمانہ میں یہ کام ہوئے وہ تو خود چندہ کرتے ہوئے قبریں فروخت کرتے ہوئے مرا پھرکس طرح وہ مسیح موعود ہوسکتا ہے رب تعالٰی اس کے شر سے مسلمانوں کو بچائے۔۴؎یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے یہودی اور عیسائی سارے ہی آپ کو اکا بندہ اکا رسول مان لیں گے اور ابھی تو سب مسلمان ہوئے نہیں۔معلوم ہوا کہ ابھی عیسیٰ علیہ السلام کی وفات بھی نہیں ہوئی۔قبل موتہمیںہضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ہے نہ کہ اہل کتاب کی طرف کیونکہ اپنی موت کے وقت کا ایمان قبول نہیں ہوتا لہذا اس آیت کے معنی یہ نہیں کہ سارے اہل کتاب اپنی موت سے پہلے حضرت مسیح پر ایمان لے آتے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ مرزائے قادیانی مسیح موعود نہیں وہ تو خود عیسائیوں کی سلطنت میں ان کا غلام بن کر رہا انہیں کی غلامی میں مرا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5505