Main Icon

باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5507

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة". قَالَ: "فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ: تَعَالَ صَلِّ لَنَا فَيَقُولُ: لَا إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أُمَرَاءُ تَكْرِمَةَ اللَّهِ هَذِه الأُمَّةَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن جابر قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لا تزال طائفة من أمتي يقاتلون على الحق ظاهرين إلى يوم القيامة". قال: "فينزل عيسى ابن مريم فيقول أميرهم: تعال صل لنا فيقول: لا إن بعضكم على بعض أمراء تكرمة الله هذه الأمة". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ میری امت کی ایک جماعت حق پر قیامت تک لڑتی رہے گی ۱∞؎فرمایا تب عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے تو ان کا امیر کہے گا آئیے ہم کو نماز پڑھائیے تو وہ کہیں گے۲؎نہیں تم میں سے بعض بعض پر امیر ہیں یہ اللہ کی طرف سے اس امت کے احترام کی وجہ سے۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎قیامت سے مراد قریب قیامت ہے جب کہ دنیا میں مؤمن و کافر دونوں ہوں گے،قیامت کے قیام کے وقت تو مؤمن نہ رہیں گے۔اور طائفہ سے مراد اسلام کے غازی مجاہد اور علما ربانی،صوفیاءکرام،اولیاء عظام ہیں کہ تاقیامت اسلام میں یہ جماعتیں رہیں گی۔اس سے معلوم ہوا کہ جہاد قیامت تک ہے مگر مرزا قادیانی کہتا ہے کہ میں نے جہاد منسوخ کردیا۔۲؎امیر سے مراد امام مہدی ہیں جو مسلمانوں کے اس وقت دینی امیر حاکم ہوں گے رضی اللہ عنہ۔وہ کہیں گے کہ آپ مجھ سے افضل ہیں کہ اپنے وقت کے نبی اور اس وقت کے عالم مجتہد ہیں آپ نماز پڑھایئے۔۳؎یعنی میں نماز پڑھانے نہیں آیا دین اسلام کی دوسری خدمتیں کرنے آیا ہوں امام آپ ہی ہیں،اول وقت تو آپ یہ فرمائیں گے بعد میں بہت سی نمازیں بار ہا پڑھائیں گے لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام امامت کریں گے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5507