Main Icon

باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2261

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ وَأَبِيْ سَعِيْدٍ قَالَا: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا يَقْعُدُ قَوْمٌ يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ إِلَّا حَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِيْنَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللّٰهُ فَيْمَنْ عِنْدَهٗ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

عن أبي هريرة وأبي سعيد قالا: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لا يقعد قوم يذكرون الله إلا حفتهم الملائكة، وغشيتهم الرحمة، ونزلت عليهم السكينة، وذكرهم الله فيمن عنده". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرماتے رسول اللہ نے ایسی کوئی جماعت نہیں جو اللہ کے ذکر کے لیے بیٹھے ۱؎مگر انہیں فرشتے گھیر لیتے ہیں رحمت ڈھانپ لیتی ہے ۲؎ان پر سکینہ اترتا ہے ۳؎اور اپنے پاس والے فرشتوں میں اللہ ان کا ذکر کرتا ہے ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ بیٹھنے سے مراد کھڑے ہونے کے مقابل ہے،لہذا اس جملہ سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ ذکر اللہ بیٹھ کر کرنا افضل ہے کہ اس میں سکون زیادہ ہوتا ہے۔دوسرے یہ کہ ذکر اللہ جماعت میں کرنا افضل ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے ممکن ہے کہ بیٹھنے سے مراد ہمیشہ ذکر اللہ کرنا ہو نیکی ہمیشہ کرنا افضل ہے۔
۲
؎یہاں فرشتوں سے مر اد وہ فرشتے ہیں جو زمین کا چکر لگاتے رہتے ہیں ذکر الٰہی کے طبقے ڈھونڈھتے پھرتے ہیں اور رحمت سے مراد خاص رحمت الٰہی ہے جو ذاکرین کے لیے مخصوص ہے لہذا اس جملہ پر یہ اعتراض نہیں کہ فرشتے تو انسان کو ہر وقت ہی گھیرے رہتے ہیں کیونکہ ہر وقت ساتھ رہنے والے فرشتے حافظین ہیں۔
۳
؎سکینہ کی شرح "باب فضائل القرآن"میں گزرچکی کہ یا تو اس سے مراد خاص ملائکہ ہیں یا دل کا نور یا دلی چین و سکون ہے اللہ کے ذکر سے دل کو چین نصیب ہوتا ہے رب تعالٰی فرماتاہے:"اَلَا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوۡبُ"اور فرماتاہے:ھُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ السَّکِیۡنَۃَ فِیۡ قُلُوۡبِ الْمُؤْمِنِیۡنَ
۴
؎یعنی اللہ تعالٰی کے ملائکہ مقربین ہیں جو ہمیشہ اس کے پاس رہتے ہیں انتظام عالم کے لیے نہیں آتے اور ارواح انبیاءعلیہم السلام و اولیاء عظام میں لوگوں کا ذکر فخر سے عزت وعظمت سے کرتے ہیں۔(مرقاۃ)یہ حدیث اس آیت کی شرح ہے"فَاذْکُرُوۡنِیۡۤ اَذْکُرْکُمْ"پھرجس طرح بندہ رب کو یاد کرتا ہے اسی طرح رب بندے کو مثلًا بندہ کہتاہے کہ مولیٰ میں گنہگار ہوں رب فرماتا ہے بندے مت گھبرا میں غفار ہوں وغیرہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2261