Main Icon

باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2276

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا تُكْثِرُوا الْكَلَامَ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللّٰهِ فَإِنَّ كَثْرَةَ الْكَلَامِ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللّٰهِ قَسْوَةٌ لِلْقَلْبِ، وَإِنَّ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنَ اللّٰهِ الْقَلْبُ الْقَاسِي". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لا تكثروا الكلام بغير ذكر الله فإن كثرة الكلام بغير ذكر الله قسوة للقلب، وإن أبعد الناس من الله القلب القاسي". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ذکر اللہ کے بغیر زیادہ باتیں نہ کرو ۱؎کیونکہ بغیر ذکر اللہ زیادہ باتیں دل کی سختی ہے۲؎اور لوگوں میں سب سے زیادہ اللہ سے دور سخت دل والا ہے ۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں زیادہ باتوں سے مراد بیکار باتیں ہیں جن کا کوئی فائدہ نہ ہو لہذا تجارتی باتیں گھریلو مفید باتیں جتنی بھی ہوں زیادہ باتوں میں شامل نہیں۔
۲
؎سختی دل کا انجام یہ ہوتا ہے کہ اس میں وعظ نصیحت اثر نہیں کرتا،کبھی انسان اپنے گزشتہ گناہوں پر روتا نہیں آیات الہیہ میں غورنہیں کرتا اللہ تعالٰی محفوظ رکھے زیادہ کلام اور بہت ہنسنا دل کو سخت کرتا ہے اور زیادہ ذکر اللہ یا اللہ والوں کی صحبت موت کی یاد آخرت کا دھیان قبرستان کی زیارت دل میں نرمی پیدا کرتی ہے۔
۳
؎یہاں دل سے مراد دل والا ہے یعنی سخت دل والا آدمی دنیا میں بھی اللہ سے دور ہے اور آخرت میں بھی اسی لیے اللہ تعالٰی نے قرآن کریم میں سختی دل کی بہت برائیاں بیان فرمائی ہیں فرماتاہے:"ثُمَّ قَسَتْ قُلُوۡبُکُمۡ مِّنۡۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ"اور فرماتاہے:"اَلَمْ یَاۡنِ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخْشَعَ قُلُوۡبُہُمْ لِذِکْرِاللّٰہِ"۔جب تک لوہا سخت ہے کچھ نہیں بن سکتا ہے مگر جب نرم ہوگیا تو اسے جس طرح چاہو ڈھال لو،اور جو چاہو اس کا بنالو،یوں ہی سخت دل نہ مؤمن بن سکے نہ عارف نہ متقی نہ پرہیزگار مگر دل نرم ہو کر ولی غوث و قطب سب کچھ بن جاتا ہے،لوہا نرم کرنے کے لیے یہ آگ چاہیئے اور دل نرم کے لیے عشق کی آگ درکار ہے رب تعالٰی نصیب کر ے پھر فقط عشق کی آگ کافی نہیں،بلکہ ساتھ میں کسی کاریگر کے ہتھوڑے کی چوٹ بھی ضروری ہے،مصرع۔
چوں بصاحب دل رسی گوہر شوی،غرضکہ دل کے لیے آگ عشق تو نرم کرنے والی چیز ہے،صحبت نیک عمدہ سانچہ ہے۔نگاہ مرد کامل کاریگر کا ہنر ہے ان تین چیزوں سے قلب کچھ کار آمد بنتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2276