Main Icon

باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2274

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللّٰهَ فِيهِ، وَلَمْ يُصَلُّوْا عَلٰى نَبِيِّهِمْ، إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً، فَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُمْ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُمْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ما جلس قوم مجلسا لم يذكروا الله فيه، ولم يصلوا على نبيهم، إلا كان عليهم ترة، فإن شاء عذبهم وإن شاء غفر لهم". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نہیں بیٹھی کوئی قوم کسی مجلس میں نہ تو اللہ کا ذکر کرے اور نہ اپنے نبی پر درود پڑھے ۱؎مگر یہ مجلس ان پر حسرت ہو گی اگر رب چاہے انہیں اس پر عذاب دے اور اگر چاہے بخش دے ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎اگرچہ ذکر اللہ میں درود شریف بھی داخل تھا مگر چونکہ درود شریف ذکر اللہ کی بہترین قسم ہے اس لیے اس کا ذکر خصوصیت سے کیا گیا کیونکہ درود پاک میں اللہ کا نام بھی ہے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا چرچہ بھی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو ان کی آل اولاد کو دعائیں بھی۔
۲
؎اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ عمومًا مجلسوں میں جھوٹ غیبت وغیرہ گناہ ہوجاتے ہیں،اگر ان میں حمد و صلوۃ وغیرہ بھی ہوتی رہے تو اس کی برکت سے یہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور اگر مجلس ان خیر ذکروں سے خالی ہو تو گناہ تو پایا گیا،کفارہ نہ ادا ہوا لہذا اب پکڑ اور سزا کا سخت اندیشہ ہے۔مرقات نے فرمایا کہ اس جملہ میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے:"وَلَوْاَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ"الایہ۔حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر بھی معافی گناہ کا ذریعہ ہے اس جملہ سے اشارۃً یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر مجلس میں اللہ رسول کا ذکر ہو تو اس کے گناہ یقینًا بخشے جائیں گے رب تعالٰی کا وعدہ ہے۔ـ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2274