Main Icon

باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2277

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ " وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فِي بَعْضِ أَسْفَارِهٖ ، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهٖ : نَزَلَتْ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، لَوْ عَلِمْنَا أَيُّ الْمَالِ خَيْرٌ فَنَتَّخِدَهٗ؟ فَقَالَ: "أَفْضَلُهٗ لِسَانٌ ذَاكِرٌ، وَقَلْبٌ شَاكِرٌ، وَزَوْجَةٌ مُؤْمِنةٌ تُعِينُهٗ عَلٰى إِيمَانِهٖ ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن ثوبان قال: لما نزلت " والذين يكنزون الذهب والفضة " كنا مع النبي -صلى الله عليه وسلم- في بعض أسفاره ، فقال بعض أصحابه : نزلت في الذهب والفضة، لو علمنا أي المال خير فنتخده؟ فقال: "أفضله لسان ذاكر، وقلب شاكر، وزوجة مؤمنة تعينه على إيمانه ". رواه أحمد والترمذي وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری کہ جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے ہیں الخ تو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے بعض صحابہ نے فرمایا کہ سونے چاندی کے متعلق تو یہ آیت نازل ہوگئی ۱؎اگر ہمیں پتہ لگ جاتا کہ کون سا مال اچھا ہے تو ہم وہ ہی جمع کرتے ۲؎حضور نے فرمایا بہترین مال ذاکر زبان شاکر دل اور مؤمنہ بیوی ہے جو ایمان میں اس کی مدد کرے ۳؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اس آیت سے ہمیں معلوم ہوگیا کہ سونا چاندی جمع کرنا دوزخ کا ذریعہ ہے اور ان چیزوں کے بغیر دنیاوی کام چلتا نہیں اب کیا کریں۔
۲
؎اور ضرورت کے وقت اسی سے کام نکالتے کہ دنیاوی ضروریات بغیر مال پوری نہیں ہوتیں۔یہ حضرا ت غالبًا یہ سمجھے تھے کہ مطلقًا سونا چاندی جمع کرنا حرام ہے،حالانکہ آیت میں زکوۃ نہ دینے والوں کا ذکر ہے انہی کی برائی بیان ہورہی ہے۔
۳
؎یہ جواب حکیمانہ ہے کہ سائلین نے تومال کے متعلق سوال کیا تھا مگر جواب میں وہ چیز ارشاد ہوئی جو مال سے بھی زیادہ مفید ہے کیونکہ مال سے جسم کا نفع ہے اور ان چیزوں سے روح و ایمان کو فائدہ ۔خیال رہے کہ ایمان سے مراد دینی کام ہیں یعنی وہ بیوی جو مرد کو زنا،چوری،بدکاری،جوئے وغیرہ سے بچائے،نماز و روزے کا پابند بنادے،وہ بیوی بھی اللہ کی رحمت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2277