Main Icon

باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2262

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَسِيْرُ فِيْ طَرِيْقِ مَكَّةَ، فَمَرَّ عَلٰى جَبَلٍ يُقَالُ لَهٗ: جُمْدَانُ، فَقَالَ: "سِيْرُوْا، هٰذَا جُمْدَانُ، سَبَقَ الْمُفَرِّدُوْنَ"قَالُوْا: وَمَا الْمُفَرِّدُوْنَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ؟ قَالَ: "الذَّاكِرُوْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَالذَّكِرَاتُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة قال: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يسير في طريق مكة، فمر على جبل يقال له: جمدان، فقال: "سيروا، هذا جمدان، سبق المفردون"قالوا: وما المفردون يا رسول الله؟ قال: "الذاكرون الله كثيرا والذكرات ". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مکہ کے راستہ میں جارہے تھے کہ ایک پہاڑ پرگزرے جیسے جمدان کہا جاتا ہے ۱؎تو صحابہ نے فرمایا چلو یہ جمدان ہے۲؎سبقت لے گئے جدا رہنے والے ۳؎صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ الگ رہنے والے کون لوگ ہیں ۴؎فرمایا اللہ کی بہت یاد کرنے والے مردوعورت ۵؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ پہاڑ مدینہ منورہ کے قریب ہے مکہ معظمہ کے راستے پر یہاں سے مدینہ منورہ پیدل ایک رات کے فاصلے پر ہے،طبرانی نے حضرت ابن مسعود سے روایت کیا کہ ایک دوسرے کو نام بنام پکارکر پوچھتے ہیں کہ کیا تجھ پر کوئی اللہ کا ذاکر گزرا،اگر کوئی پہاڑ کہتا ہے کہ ہاں مجھ پر گزرا تو سب کہتے ہیں مبارک ہو عوارف المعارف میں حضرت انس سے روایت ہے کہ روزانہ صبح و شام زمین کے بعض حصے بعض سے پوچھتے ہیں کہ کیا تجھ پر کوئی بندہ ایسا گزرا یا بیٹھا جو اللہ کا ذکر کررہا ہو،اگر کوئی طبقہ کہتا ہے کہ ہاں مجھ پر گزرا ہے تو دوسرے طبقے کہتے ہیں تو ہم سب سے افضل ہے۔مرقات
۲
؎یعنی اے جماعت صحابہ یہ جمدان پہاڑ ہے یہاں اللہ کا ذکر کرتے چلو تاکہ کل قیامت میں تمہارا گواہ ہو۔
۳
؎مفردونتفریدسے ہے،بمعنی الگ کرنا،جدا رکھنا،یعنی جنہوں نے اپنے کو دنیاوی الجھنوں،اغیار کی مجلس سے الگ رکھا یا جنہوں نے تمام ذکروں سے اللہ کے ذکر کو چھانٹ لیا۔جس میں وہ ہر وقت لگے رہتے ہیں۔
۴
؎یہماسوال احوال کے لیے ہے نہ کہ سوال ذات کے لیے جیسے فرعون نے موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا تھاوما رب العلمینیعنی اللہ تعالٰی کے صفات کیا ہیں اسی لیے یہاںمننہ بولامااور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب بھی وہ عنایت فرمایا جو سوال کے مطابق ہے۔
۵
؎چونکہ اللہ کے ذاکر مرد زیادہ ہیں عورتیں کم،اس لیے مردوں کا ذکر پہلے ہوا عورتوں کا بعد میں۔ مرقات نے فرمایا کہ اللہ کا بہت ذکر کرنے والا وہ ہے جو کسی حال میں رب کو نہ بھولے خلوص سے اس کی عبادت کرے خلقت سے مستغنی رہے فکر و شکر میں حریص ہو جو خدا سے غافل کرے اس سے دور رہے اللہ کے ذکر میں ایسی لذت پائے جو کسی اور چیز میں نہ پائے ر ب تعالٰی فرماتاہے:"وَ تَبَتَّلْ اِلَیۡہِ تَبْتِیۡلًا"یعنی تمام غیر اللہ سے کٹ کر رب کے ہوجاؤ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2262