- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- دعاؤں کا بیان
- حدیث نمبر 2268
باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2268
دعاؤں کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ الرُّبَيِّعِ الأُسَيدِيْ قَالَ: لَقِيَنِي أَبُوْ بَكْرٍ فَقَالَ: كَيْفَ أَنْتَ يَا حَنْظَلَةُ؟ قُلْتُ: نَافَقَ حَنْظَلَةُ، قَالَ: سُبْحَانَ اللّٰهِ! مَا تَقُوْلُ؟ قُلْتُ: نَكُوْنُ عِنْدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ كَأَنَّا رَأْيُ عَيْنٍ، فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- عَافَسْنَا الأَزْوَاجَ وَالأَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ نَسِينَا كَثِيْرًا، قَالَ أَبُوْ بَكْرٍ: فَوَاللّٰهِ إِنَّا لَنَلْقٰى مِثْلَ هٰذَا ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبُوْ بَكْرٍ حَتّٰى دَخَلْنَا عَلٰى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: نَافَقَ حَنْظَلَةُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "وَمَا ذَاكَ؟ " قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ نَكُوْنُ عِنْدَكَ تُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ كَأَنَّا رَأْيُ عَيْنٍ، فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ عَافَسْنَا الأَزْوَاجَ وَالأَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ نَسِينَا كَثِيرًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ لَوْ تَدُومُوْنَ عَلٰى مَا تَكُوْنُوْنَ عِنْدِي وَفِي الذِّكْرِ لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ عَلٰى فُرُشِكُمْ وَفِي طُرُقِكُمْ، وَلَكِنْ يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةً وَسَاعَةً" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وعن حنظلة بن الربيع الأسيدي قال: لقيني أبو بكر فقال: كيف أنت يا حنظلة؟ قلت: نافق حنظلة، قال: سبحان الله! ما تقول؟ قلت: نكون عند رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يذكرنا بالنار والجنة كأنا رأي عين، فإذا خرجنا من عند رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عافسنا الأزواج والأولاد والضيعات نسينا كثيرا، قال أبو بكر: فوالله إنا لنلقى مثل هذا ، فانطلقت أنا وأبو بكر حتى دخلنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: نافق حنظلة يا رسول الله! قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "وما ذاك؟ " قلت: يا رسول الله نكون عندك تذكرنا بالنار والجنة كأنا رأي عين، فإذا خرجنا من عندك عافسنا الأزواج والأولاد والضيعات نسينا كثيرا، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "والذي نفسي بيده لو تدومون على ما تكونون عندي وفي الذكر لصافحتكم الملائكة على فرشكم وفي طرقكم، ولكن يا حنظلة ساعة وساعة" ثلاث مرات. رواه مسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت حنظلہ ابن ربیع اسیدی سے ۱؎فرماتے ہیں مجھے حضرت ابوبکر صدیق ملے پوچھا حنظلہ کیسے ہو میں بولا کہ حنظلہ تو منافق ہوگیا ۲؎فرمایاسبحان اللهکیا کہہ رہے ہو ۳؎میں بولا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ہوتے ہیں،حضور جنت دوزخ کا ذکر ہمیں سناتے ہیں گویا وہ دونوں ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں ۴؎پھر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس سے ہٹتے ہیں تو بیوی بچوں مال و اسباب میں گھل مل کر بہت سا بھول جاتے ہیں ۵؎حضرت ابوبکر بولے اللہ کی قسم ہم سب ہی کو یہ درپیش رہتا ہے ۶؎پھر میں اور حضرت ابوبکر صدیق چلےحتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ اقدس میں پہنچے میں نے عرض کیا یارسول اللہ حنظلہ تو منافق ہوگیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا قصہ کیا ہے میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں آپ ہمیں جنت و دوزخ کا ذکر یوں سناتے ہیں گویا وہ ہماری آنکھوں کے آگے ہیں ۷؎جب آپ کے پاس سے ہم نکلتے ہیں تو بیوی بچوں مال و اسباب میں مشغول ہوجاتے ہیں بہت کچھ بھول جاتے ہیں ۸؎تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس خدا کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے جو تمہارا حال میرے پاس ہوتا ہے اگر اس پر ہمیشہ رہو ۹؎تو فرشتے تمہارے بستروں پر تمہارے راستوں میں تم سے مصافحہ کیا کریں ۱۰؎لیکن اے حنظلہ وقتًا فوقتًا دو گھڑی تین بار فرمایا ۱۱؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎یہ حنظلہغسیل الملائکہنہیں ہیں،بلکہ دوسرے صحابی ہیں،جو کاتبِ وحی تھے اسید ابن عمرو ابن تمیم کی اولاد سے ہیں،بڑی عمر پائی، حضرت امیر معاویہ کے زمانہ میں آپ کی وفات ہوئی۔
۲؎یعنی میر ی حالت منافقوں کی سی ہوئی کہ اس میں یکسانیت نہیں یہاں نفاق سے اعتقادی نفاق مراد نہیں جیسا کہ اگلے مضمون سے معلوم ہورہا ہے اور نہ اس کلام میں اپنے کفر یا نفاق کا اقرار ہے آپ کا یہ قول انتہائی خوف خدا پر مبنی ہے،اقرار کفر تو کفر ہے، مگر اقرار گناہ جو خوفِ خدا سے ہو عین تقویٰ ہے حضرت یونس علیہ السلام نے عرض کیا تھا"اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ"حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا"رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنۡفُسَنَا"جیسے ان بزرگوں کو ظالم نہیں کہا جاسکتا ایسے ہی ان صحابی کو اس کلام کی بنا پر عاصی یامنافق نہیں کہا جاسکتا لہذا یہ حدیث روافض کی دلیل نہیں بن سکتی ۔
۳؎تم سے نفاق کو کیا نسبت تم صحابی رسول ہو کاتب وحی ہو اپنے کلام کا مطلب خود بیان کرو۔
۴؎یعنی اس وقت ہم کو خوف و امید اس درجہ کی ہوتی ہے گویا ہم جنت دوزخ دیکھ کر اس سے ڈر رہے ہیں اور اسے چاہ رہے ہیں۔ معلوم ہوا کہ صحابہ کو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی مجلس میں عین الیقین نصیب ہوجاتا تھا نہ معلوم حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے ان کی نمازیں کیسی ہوتی ہوں گی۔ اللہ تعالٰی ان کی تجلی کچھ ہم کو بھی نصیب کرے۔
۵؎ضیعات ضیعۃٌکی جمع ہے،ضیعہوہ چیز ہے جس سے روزی وابستہ ہو اکثر زمین،باغات کھیتی باڑی کو ضیعہ کہا جاتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ ہم پرگھر پہنچ کر کچھ غفلت طاری ہوجاتی ہے،دل کا حال وہ نہیں رہتا جو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی مجلس پاک میں ہوتا ہے،دل کا یکساں حال نہ رہنا حال کی منافقت ہے۔
۶؎یعنی یہ اختلاف حال صرف تمہارا ہی نہیں بلکہ ہم تمام صحابہ کا ہے،تو کیا ہم سب منافق ہوگئے یہ کیسے ہوسکتا ہے چلو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم پوچھیں۔
۷؎یہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے بیان کا معجزہ تھا کہ آپ کے بیان سے عالم غیب گویا عالم شہادت بن جاتا تھا بعض علماء کی تقریر میں سامعین کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے واقعہ سامنے ہورہا ہے،بار ہا ذکر معراج،ذکر ہجرت وغیرہ میں ایسا دیکھا گیا ہے،یہ بیان و اخلاص کا کمال ہے۔
۸؎بھول جانے سے مراد ہے توجہ تام نہ رہنا نہ کہ حفظ کا مقابل،لہذا حدیث پر اعتراض نہیں کہ جب صحابہ کا حافظہ اتنا کمزور تھا کہ فورًا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان بھول جاتے تھے تو ان سے روایت حدیث کیونکر د رست ہوئی۔
۹؎وفی الذکرکا واؤ عاطفہ ہے اور یہ جملہماکا بیان ہے اور ذکر سے مراد ہےمشاہدہ و توجہ تام یعنی تمہارے قلب کا جو حال میر ی مجلس میں ہوتا ہے اور جو کشف و مشاہدہتیقظو بیداری یہاں ہوتی ہے،اگر ایسی ہی ہر وقت رہے۔
۱۰؎یعنی تو فرشتے تم سے علانیہ طور پر ملاقاتیں مصافحے کیا کریں ورنہ صحابہ کرام سے فرشتے مصافحے بھی کرتے تھے اور ملاقاتیں بھی مگر دوسری شکلوں میں۔
۱۱؎یعنی زندگی کی بعض گھڑیاں دینی انہماک کے لیے رہیں اور بعض گھڑیاں دنیاوی کاروبار کے لیے تاکہ دونوں جہاں آباد و قائم ر ہیں۔ایک ہندی شاعر نے کیا خوب کہا شعر
تو دنیا میں ایسا ہو رہ جوں مرغابی ساگر میں
ڈگر پہ اپنے ایسے جانا جوں چت ناری گاگر میں
مرغابی دریا میں آکر تیرنے والا جانور بن جاتی ہے اور ہوا میں پہنچ کر پرندہ،پہاڑی عورت دو گھڑے سر پر ایک گھڑ ابغل میں لئے دوسرا ہاتھ میں لٹکائے اپنی سہیلیوں سے باتیں کرتی راستہ طے کرلیتی ہے،بیک وقت راستہ پر بھی نظر رکھتی ہے اور گھڑوں کا دھیان بھی اور سہیلی کی طرف توجہ بھی،ایسے ہی مسلمان مسجد میں پہنچ کر فرشتہ صفت بن جائے،بازار میں جا کر اعلیٰ درجہ کا تاجر،دنیاو دین دونوں کو سنبھالے،خالق و مخلوق سب کے حقوق ادا کرتا ہوا زندگی کا راستہ طے کرے،سبحان الله !کیا نفیس تعلیم ہے ۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں کی ہر ساعت اللہ کے ذکر میں گزرتی ہے کہ دنیاوی کاروبار انہیں ذکر اللہ سے غافل نہیں کرتے اور بعض لوگوں کے ہاں تقسیم ہوتی ہے کہ بعض گھڑیاں رب تعالٰی کے ذکر میں اور بعض گھڑیاں دنیاوی مشغلہ میں،صحابہ کرام میں بھی انہیں دو قسم کے حضرات تھےحضرت حنظلہ دوسری جماعت سے تھے اس لیے ان سے یہ فرمایا گیا،اسی لیے حضرت حنظلہ سے خطاب فرمایا،صدیق اکبر سے خطاب نہ فرمایا کہ حضرت صدیق پہلی جماعت سے تھے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2268