Main Icon

باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2286

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَنَّهٗ كَانَ يَقُوْلُ: "لِكُلِّ شَيْءٍ صَقَالَةٌ، وَصَقَالَةُ الْقُلُوْبِ ذِكْرُ اللّٰهِ، وَمَا مِنْ شَيْءٍ أَنْجٰى مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ ذِكْرِ اللّٰهِ" قَالُوْا: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ؟ قَالَ: "وَلَا أَنْ يَضْرِبَ بِسَيْفِهٖ حَتّٰى يَنْقَطِعَ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "الدَّعَوَاتِ الْكَبِيْرِ".

وعن عبد الله بن عمر عن النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه كان يقول: "لكل شيء صقالة، وصقالة القلوب ذكر الله، وما من شيء أنجى من عذاب الله من ذكر الله" قالوا: ولا الجهاد في سبيل الله؟ قال: "ولا أن يضرب بسيفه حتى ينقطع". رواه البيهقي في "الدعوات الكبير".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن عمر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور فرماتے تھے کہ ہر چیز کی صیقل ہے اور دلوں کی صیقل اللہ کا ذکر ہے ۱؎اور کوئی چیز ذکر اللہ سے بڑھ کر عذابِ الٰہی سے نجات نہیں دیتی صحابہ نے عرض کیا کہ نہ اللہ کی راہ میں جہاد فرمایا بلکہ نہ یہ کہ غازی اپنی تلوار سے کفار کو مارے حتی کہ تلوار ٹوٹ جائے ۲؎(بیہقی،دعوات کبیر)

شرح حدیث

۱∞؎دنیاوی الجھنیں اور گناہ آئینہ دل کو میلا کرتے رہتے ہیں اور ذکر اللہ اس میل کو دور کرکے اس آئینہ کو شفاف بناتا رہتا ہے۔اگر انسان گناہ نہ کرے اور پھر ذکر اللہ کرے تو دل پر ایسی پالش ہوتی ہے کہ سارا عالم اس دل میں نظر آتا ہے جیسے کہ گھر کا سارا سامان دیوار میں لگے ہوئے شفاف آئینہ میں پھر بندہ عالم کے ہر ذرہ کو کف دست کی طرح دیکھتا ہے حضور غوث اعظم فرماتے ہیں۔شعرنظرت الی بلاد الله جمیعا
کخرد لۃ علی حکم اتصال
قرآن کریم فرمارہا ہے کہ آصف برخیا نے شام سے بیٹھے ہوئے تختِ بلقیس کو جو یمن میں تھا دیکھ بھی لیا اور اٹھا بھی لائے،حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے نہاوند کی جنگ کو دیکھ بھی لیا اور حضرت ساریہ کو نقشہ جنگ سمجھا بھی دیا۔یہ سب صفائی دل کے کرشمے ہیں ہر چیز کی صفائی علیحدہ ہے کپڑے کی صفائی صابن سے لوہے کی صیقل سے اور دل کی صفائی ذکر اللہ سے۔
۲
؎یعنی تم تو صرف جہاد کو کہہ رہے ہو،اگر مجاہد اول درجے کا غازی بھی ہو شہید بھی ذاکر اللہ کے درجے کو نہیں پہنچتا۔ اس کی وجہ پہلے بیان کی جاچکی ہے،یہاںینقطعکا فاعل یا تو تلوار ہے یا غازی یعنی تلوار ٹوٹ جائے یا غازی کی زندگی کا تار ٹوٹ جائے ذکر اللہ کے جو معنے عرض کئے گئے ہیں وہ یاد رکھنا کہ اللہ کا ذکر یہ بھی ذکر اللہ اس کے محبوب بندوں کا عظمت سے ذکر یہ بھی ذکر اللہ ہے،اس کے دشمنوں کا برائی سے ذکر یہ بھی ذکر اللہ ہے،لہذا ہر وقت درود شریف پڑھنے والا بھی اسی میں شامل ہے،درس قرآن کریم،تعلیم حدیث و فقہ سب اس میں داخل۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2286