Main Icon

باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2272

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ قَعَدَ مَقْعَدًا لَمْ يَذْكُرِ اللّٰهَ فِيهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللّٰهِ تِرَةٌ، وَمَنِ اضْطَجَعَ مَضْجَعًا لَا يَذْكُرُ اللّٰهَ فِيهِ كَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللّٰهِ تِرَةٌ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من قعد مقعدا لم يذكر الله فيه كانت عليه من الله ترة، ومن اضطجع مضجعا لا يذكر الله فيه كانت عليه من الله ترة". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو کسی مجلس میں بیٹھے جس میں اللہ کا ذکر نہ کرے تو وہ اس کے لیے اللہ کی طرف سے حسرت و خسارہ ہوگی اور جو کسی خوابگاہ میں لیٹے کہ اس میں اللہ کا ذکر نہ کرے تو یہ بھی اس پر اللہ کی طرف سے ندامت ہوگی ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث میں مجلس سے مراد ہر جائز مجلس ہے جو کہ گندگی وغیرہ سے خالی ہو لہذا قضائے حاجت کی مجلس،اسی طرح شراب خوروں کی مجلس اس سے مستثنٰی ہے ان موقعوں پر خدا تعالٰی کا نام لینا بے ادبی ہے۔مطلب یہ ہے کہ جب کسی دینی یا دنیاوی مجلس میں بیٹھو اور جب بھی سونے کے لیے بستر پر دراز ہو تو اللہ کا ذکر ضرور کرلو ورنہ کل قیامت میں ان اوقات کے ضائع ہو جانے پر کف افسوس ملو گے۔ بعض لوگ ہر وقت درود شریف پڑھتے رہتے ہیں ا ن کی اصل یہ حدیث ہے،مؤمن کی کوئی حالت ذکر اللہ سے خالی نہ چاہیئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2272