Main Icon

باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2264

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "يَقُوْلُ اللّٰهُ تَعَالٰى: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِيْ بِيْ، وَأَنَا مَعَهٗ إِذَا ذَكَرَنِيْ،فَإِنْ ذَكَرَنِيْ فِيْ نَفْسِهٖ ذَكَرْتُهٗ فِيْ نَفْسِيْ، وَإِنْ ذَكَرَنِيْ فِيْ مَلأٍ ذَكَرْتُهٗ فِيْ مَلأٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يقول الله تعالى: أنا عند ظن عبدي بي، وأنا معه إذا ذكرني،فإن ذكرني في نفسه ذكرته في نفسي، وإن ذكرني في ملأ ذكرته في ملأ خير منهم". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ تعالٰی فرماتا ہے میں اپنے بندے کے گمان کے نزدیک ہوتا ہوں جو مجھ سے رکھے ۱؎جب بندہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ۲؎اگر بندہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اکیلے ہی یاد کرتا ہوں اور اگر مجھے مجمع میں یاد کرتا ہے تو میں اسے بہتر مجمع میں یاد کرتا ہوں ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاںعبدسے مراد بندہ مؤمن ہے اورظنّبمعنی یقین بھی آتاہے جیسے"یَظُنُّوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّہِمْ"اور بمعنی گمان نیک بھی جیسے"ظَنَّ الْمُؤْمِنُوۡنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنۡفُسِہِمْ خَیۡرًا"اور بمعنی بدگمانی بھی جیسے"اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ"یہاں دونوں معنے درست ہیں یعنی بندہ میرے متعلق جیسا یقین رکھے گا میں ویسا ہی معاملہ اس سے کروں گا یا بندہ میرے متعلق جیسا گمان کرے گا میں ویسا ہی کروں گا مطلب یہ ہے کہ اگر بندہ قبولیت کی امید یا یقین پر دعا و عبادت کرے گا تو میں اس کی دعا و عبادت ضرور قبول کروں گا اور اگر ردکا یقین یا گمان کرے گا تو رد ہی کروں گا۔مقصد یہ ہے کہ اعمال بھی کرو اور قبول کی امید بھی رکھو عمل نہ کرکے بخشش کی امید رکھنا ظن نہیں بلکہ نفس کا دھوکا وغرور ہے ظن و غرور میں فرق چاہیئے جو بو کر گندم کاٹنے کی امید، ٹھنڈا لوہا کاٹنا بے کار ہے۔مولانا فرماتے ہیں۔شعر
گندم از گندم بروید جو ز جو
از مکافات عمل غافل مشو
بعض لوگ امید دھوکے میں فرق نہیں کرتے وہ اس حدیث سے دھوکا کھاتے ہیں،حدیث واضح ہے۔
۲
؎رحمت و کرم،توفیق و مہربانی خیال رہے کہ بندہ رب سے ذکر اللہ کرتے وقت بہت قریب ہوتا ہے،جو ہر وقت ذکر کرے وہ ہر وقت رب سے قریب ہے۔
۳
؎بہتر مجمع سے مراد ارواح انبیاء و اولیاء ہیں لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں اور ہوسکتا ہے اس مجمع سے مراد مقرب فرشتوں کا مجمع ہو چونکہ بعض لحاظ سے فرشتے انسان سے افضل ہیں کہ ہم انسان نیک و بد ہر طرح کے کام کرلیتے ہیں،فرشتے صرف نیک کام ہی کرتے ہیں اسی لیے انہیںخیرًا منھمکہا گیا، لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ انسان فرشتے سے افضل ہے پھر یہاں فرشتوں کو انسان سے افضل کیوں فرمایا گیا۔
مسئلہ: ماہیت انسان ماہیت فرشتہ سے افضل ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"
وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیۡۤ اٰدَمَ"اسی لیے انسان کواشرف المخلوقاتکہا جاتا ہے رہے افراد اس میں تفصیل یہ ہے کہ خاص انسان جیسے انبیاء و اولیاء خاص و عام تمام فرشتوں سے افضل ہیں مگر عام مسلمانوں سے خاص فرشتے افضل،رہے کفار وہ تو گدھے کتے سے بھی بدتر ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اُولٰٓئِكَ ھُمْ شَرُّ الْبَرِیَّۃِ"۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ذکر بالجہر افضل ہے کہ آہستہ ذکر کرنے والوں کا ذکر وہاں بھی خفیہ ہی ہوتا ہے اور مجمع لگاکر اونچا ذکر کرنے والوں کا وہاں بھی علانیہ ذکر ہی ہوتا ہے جیسے فرشتے و انبیاء و اولیاء سنتے ہیں ذکر بالجہر والوں کی یہ حدیث قوی دلیل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2264