Main Icon

باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2275

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ حَبِيْبَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "كُلُّ كَلَامِ ابْنِ آدَمَ عَلَيْهِ لَا لَهٗ، إِلَّا أَمْرٌ بِمَعْرُوْفٍ، أَوْ نَهْيٌ عَنْ مُنْكَرٍ، أَوْ ذِكْرُ اللّٰهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ.

وعن أم حبيبة قالت: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "كل كلام ابن آدم عليه لا له، إلا أمر بمعروف، أو نهي عن منكر، أو ذكر الله". رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام حبیبہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے انسان کا ہر کلام اس پر وبال ہے مفید نہیں ۱؎سوائے اچھی باتوں کے حکم یا بری باتوں سے منع کرنے کے یا اللہ کے ذکر کے ۲؎ترمذی،ابن ماجہ،اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ ہمارے کلام یا تو گناہ ہوتے ہیں جن کا مضر ہونا ظاہر ہے یا عبث و بے فائدہ جو لہو ولعب میں داخل ہیں یہ بھی وبال ہوئے اور جائز کلام بھی جب فائدہ اور ثواب سے خالی ہوئےتو آخرت میں ہم کو وبال محسوس ہوں گے،جیسے سفر میں غیرضروری سامان لہذا حدیث بالکل واضح ہے۔ خیال رہے کہ کل قیامت میں عبث کام ہم پر سوار ہوں گے اور نیک کاموں پر ہم سوار ہوں گے،لہذا عبث بھی وبال ہے۔
۲
؎کہ یہ تینوں نیکیاں وبال نہیں بلکہ نیک اعمال ہیں،پہلی دو نیکیاں متعدی ہیں اور آخری تیسری نیکی لازم اگرچہ تبلیغ بھی اللہ کا ذکر ہی ہے مگر وہ بالواسطہ ذکر ہے اور یہاں بلاواسطہ ذکر مراد ہے اس لیے اس کا ذکر علیحدہ فرمایا،ذکر اللہ میں سارے اذکار الٰہی داخل ہیں تلاوت قرآن ہو یا درود شریف یا کوئی اور ذکر خیر۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2275