Main Icon

باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2283

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَفِي رِوَايَةٍ: "مَثَلُ الشَّجَرَةِ الْخَضْرَاءِ فِي وَسَطِ الشَّجَرِ وَذَاكِرُ اللّٰهِ فِي الْغَافِلِيْنَ مَثَلُ مِصْبَاحٍ فِي بَيْتٍ مُظْلِمِ، وَذَاكِرُ اللّٰهِ فِي الْغَافِلِيْنَ يُرِيْهِ اللّٰهُ مَقْعَدَهٗ مِنَ الْجَنَّةِ وَهُوَ حَيٌّ، وَذَاكِرُ اللّٰهِ فِي الْغَافِلِينَ يُغْفَرُ لَهٗ بِعَدَدِ كُلِّ فَصِيْحٍ وَأَعْجَمَ". وَالْفَصِيْحُ: بَنُوْ آدَمَ، وَالأَعْجَمُ: الْبَهَائِمُ. رَوَاهُ رَزِيْنٌ.

وفي رواية: "مثل الشجرة الخضراء في وسط الشجر وذاكر الله في الغافلين مثل مصباح في بيت مظلم، وذاكر الله في الغافلين يريه الله مقعده من الجنة وهو حي، وذاكر الله في الغافلين يغفر له بعدد كل فصيح وأعجم". والفصيح: بنو آدم، والأعجم: البهائم. رواه رزين.

حدیث ترجمہ

اور ایک روایت میں یوں ہے کہ جیسے درختوں میں سبز درخت ۱؎اور غافلوں میں اللہ کا ذکر کرنے والا ایسا ہے جیسے اندھیرے گھر میں چراغ ۲؎اور غافلوں میں اللہ کا ذکر کرنے والے کو رب تعالٰی زندگی ہی میں اس کو جنت کا گھر دکھا دیتاہے ۳؎اور غافلوں میں اللہ کا ذکر کرنے والے کی تمام بولنے والوں اور گونگوں کی بقدر بخشش ہوتی ہے بولنے والے انسان ہیں اور گونگے جانور۴؎(رزین)

شرح حدیث

۱؎جیسے باغبان کے دل میں اس ہری شاخ و ہرے درخت کی بڑی قدر ہے ایسے ہی رب تعالٰی کی بارگاہ میں ایسے ذاکر کی بڑی منزلت۔
۲
؎اندھیرے گھر اور غافل دل میں ظلمت،غیوبت و نفور ہے،اجیالے گھر اور ذاکر دل میں نور ہے،حضور ہے اور سرور ہے"اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوۡبُ
۳
؎یا خواب میں یا جاگتے ہوئے جیسے بعض صحابہ نے جہاد میں شہادت سے پہلے جنت دیکھ لی اور لوگوں کو خبر دی یا بوقت جانکنی کہ ملک الموت پہلے اسے ا س کا جنتی گھر دکھاتے ہیں پھر جان نکالتے ہیں۔رب تعالٰی فرماتاہے:"تَتَـنَزَّلُ عَلَیۡہِمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ اَ لَّا تَخَافُوۡا وَ لَا تَحْزَنُوۡا وَ اَبْشِرُوۡا بِالْجَنَّۃِ الَّتِیۡ کُنۡتُمْ تُوۡعَدُوۡنَ"۔یہ حدیث اس آیت کی تفسیر ہے،خیال رہے کہ ذاکروں کو مرتے وقت جنت دکھائی جاتی ہے اور عاشقوں کو نزع میں محبوب صلی اللہ علیہ و سلم کا جمال دکھاتے ہیں جس سے میت شدت نزع بالکل محسوس نہیں کرتا،جیسے مصری عورتوں کو جمال یوسفی دیکھ کر ہاتھ کٹنے کا درد محسوس نہ ہوا۔
۴
؎کیونکہ ذکر اللہ کی برکت سے انسان کو عذاب سے امن ملتی ہے اور جانوروں کو بھی لہذا ذاکر سے سب ہی فائدہ اٹھاتے ہیں اس لیے ان سب کی بقدر اسے ثواب ملتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2283