Main Icon

باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2271

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ فَارْتَعُوْا" قَالُوْا: وَمَا رِيَاضُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: "حِلَقُ الذِّكْرِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن أنس قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إذا مررتم برياض الجنة فارتعوا" قالوا: وما رياض الجنة؟ قال: "حلق الذكر". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب تم جنت کی کیاریوں سے گزرو تو کچھ چرلیا کرو۱؎لوگوں نے پوچھا جنت کی کیاریاں کیا ہیں فرمایا ذکر کے حلقے ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎معلوم ہوا کہ ذکر اللہ غذاء روحانی ہے اور ذکر کے حلقے روحانی سبزہ زار جب انسان باغ کھیت سے گزرتا ہے تو کچھ کھاتا ہے لہذا جب ذکر اللہ پر گزرے تو کچھ ذکر کرلے یا سن لے۔
۲
؎اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ ذکر الٰہی کے جلسوں میں جانا وہاں شرکت کرنا بہت بہتر ہے،لہذا میلاد شریف، درس قرآن، گیارھویں پاک اور عرس بزرگان میں شرکت افضل،دوسرے یہ کہ ذکر اللہ کے لیے حلقے بنا کر بیٹھنا افضل ہے،نماز میں صف بستہ کھڑے ہو کر فرشتے صف بستہ حاضر رہتے ہیں اور ذکر اللہ کے حلقے باندھو کہ جنتی لوگ حلقے بنا کر بیٹھا کریں گے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ یُطَافُ عَلَیۡہِمۡ بِاٰنِیَۃٍ مِّنۡ فِضَّۃٍ وَّ اَکْوَابٍ"۔تیسرے یہ کہ اکیلے ذکر سے جماعت میں ذکر کرنا اور سننا افضل ہے اس سے ذکر بالجہر کا ثبوت ہوا،اگر مجمع کے ذکر میں ایک کا ذکر بھی قبول ہوا تو سب کا قبول ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2271