Main Icon

باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2263

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ مُوْسٰى قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَثَلُ الَّذِيْ يَذْكُرُ رَبَّهٗ وَالَّذِيْ لَا يَذْكُرُ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي موسى قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "مثل الذي يذكر ربه والذي لا يذكر مثل الحي والميت". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی مثال جو رب کا ذکر کرے اور جو نہ کرے زندہ و مردہ کی سی ہے ۱؎(مسلم،بخاری)۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جیسے زندہ کا جسم روح سے آباد ہے مردہ کا غیر آباد،ایسے ہی ذاکر کا دل ذکر سے آباد ہے غافل کا دل ویران یا جیسے شہروں کی آبادی زندوں سے ہے مردوں سے نہیں ایسے ہی آخرت کی آبادی ذاکرین سے ہے غافلین سے نہیں،یا جیسے زندہ دوسروں کو نفع و نقصان پہنچاسکتا ہے مردہ نہیں،ایسے اللہ کے ذاکر سے نفع و نقصان خلق حاصل کرتی ہے غافل سے نہیں یا جیسے مردے کو کوئی دوا یا غذا مفید نہیں ایسے ہی غافل کو کوئی عمل وغیرہ مفید نہیں اللہ کا ذکر کرو پھر دوسرے اعمال،ذاکر مرکر بھی جیتا ہے غافل زندہ رہ کر بھی مردہ ہے۔مرقات نے فرمایا کہ اس میں اشارۃً ارشاد ہوا کہحی لایموتکا ذکر ذاکر کو حیات غیر فانیہ بخش دیتا ہے۔ اولیاء اللہ مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر میں چلے جاتے ہیں۔(مرقاۃ)
۲
؎مسلم شریف میں ہے کہ جو گھر اللہ کے ذکر سے آباد ہو وہ زندہ ہے اور جو گھراس کے ذکر سے خالی ہو وہ مردہ ہے گھر سے مراد مؤمن کا دل ہے کہ وہ اللہ کا گھر ہے مبارک ہے وہ جو اس گھر کو آباد رکھے منحوس ہے وہ جو اسے ویران کردے۔شعر
آباد وہ ہی دل ہے جس میں تمہاری یاد ہے
جو یاد سے غافل ہوا ویران ہے برباد ہے

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2263