Main Icon

باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2266

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى قَالَ: مَنْ عَادٰى لِيْ وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهٗ بِالْحَرْبِ،وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِيْ بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِيْ يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰى أَحْبَبْتُهٗ،فَإِذَا أَحْبَبْتُهٗ فَكُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِيْ يَسْمَعُ بِهٖ ، وَبَصَرَهُ الَّذِيْ يُبْصِرُ بِهٖ ، وَيَدَهُ الَّتِيْ يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِيْ يَمْشِيْ بِهَا، وَإِنْ سَأَلَنِيْ لأُعْطِيَنَّهٗ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِيْ لأُعِيْذَنَّهٗ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهٗ تَرَدُّدِيْ عَنْ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَنَا أَكْرَهُ مُسَاءَتَهٗ، وَلَا بُدَّ لَهٗ مِنْهُ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن الله تعالى قال: من عادى لي وليا فقد آذنته بالحرب،وما تقرب إلي عبدي بشيء أحب إلي مما افترضت عليه، وما يزال عبدي يتقرب إلي بالنوافل حتى أحببته،فإذا أحببته فكنت سمعه الذي يسمع به ، وبصره الذي يبصر به ، ويده التي يبطش بها، ورجله التي يمشي بها، وإن سألني لأعطينه، ولئن استعاذني لأعيذنه، وما ترددت عن شيء أنا فاعله ترددي عن نفس المؤمن يكره الموت وأنا أكره مساءته، ولا بد له منه". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے جو میرے کسی ولی ۱؎سے عداوت رکھے میں اس سے اعلان جنگ دیتا ہوں ۲؎اور میرے کسی بندے کا بمقابلہ فرائض عبادتوں کے دوسرے ذریعہ سے مجھ سے قریب ہونا مجھے زیادہ پسند نہیں ۳؎اور میرا بندہ نوافل کے ذریعہ سے قریب ہوتا رہتا ہےحتی کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۴؎پھر جب اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کے کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتاہے اور اس کی آنکھیں ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتاہے اور اس کے ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے ۵؎اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو اسے دیتا ہوں اور اگر میری پناہ لیتا ہے تو اسے پناہ دیتا ہوں ۶؎اور جو مجھے کرنا ہوتا ہے اس میں کبھی میں تردد نہیں کرتا جیسے کہ میں اس مؤمن کی جان نکالنے میں توقف کرتا ہوں جو موت سے گھبراتا ہے اور میں اسے ناخوش کرنا پسند نہیں کرتا ادھر موت بھی اس کے لیے ضروری ہے ۷؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ولی اللہ وہ بندہ ہے جس کا اللہ تعالٰی والی وارث ہوگیا کہ اسے ایک آن کے لیے بھی اس کے نفس کے حوالے نہیں کرتا بلکہ خود اس سے نیک کام لیتا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَھُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیۡنَ"۔اور وہ بندہ ہے جو خود رب تعالٰی کی عبادت کا متولی ہوجائے،پہلی قسم کے ولی کا نام مجذوب یا مراد ہے اور دوسرے کا نام سالک یا مرید ہے وہاں ہر مراد مرید ہے اور ہر مرید مراد فرق صرف ابتداء میں ہے یہ مقامقالسے وراء ہے حال سے معلوم ہوسکتاہے۔
۲
؎یعنی جو میرے ایک ولی کا دشمن ہے وہ مجھ سے جنگ کرنے کو تیار ہوجائے،خدا کی پناہ ۔ یہ کلمہ انتہائی غضب کا ہے صرف دو گناہوں پر بندے کو رب تعالٰی کی طرف سے اعلان جنگ دیاگیا ہے ایک سود خوار دوسرے دشمن اولیاء رب تعالٰی فرماتاہے:"فَاۡذَنُوۡا بِحَرْبٍ مِّنَ اللہِ وَرَسُوۡلِہٖ"۔علماء فرماتے ہیں کہ ولی کا دشمن کافر ہے اور اس کے کفر پر مرنے کا اندیشہ ہے۔(مرقات)خیال رہے کہ ایک ہےولی اللهسے اس لیے عداوت و عناد کہولی اللهہے یہ تو کفر ہے اسی کا یہاں ذکر ہے اور ایک ہے کسی ولی سے اختلاف رائے یہ نہ کفر ہے نہ فسق لہذا اس حدیث کی بناء پر یوسف علیہ السلام کے بھائی اور وہ صحابہ جن کی آپس میں لڑائیاں رہیں ان کو برا نہیں کہا جاسکتا کہ وہاں اختلاف رائے تھا عناد نہ تھا۔ عناد و اختلاف میں بڑا فرق ہے،اس کے لیے ہماری کتاب امیر معاویہ دیکھئے حتی کہ حضرت سارا کو اس بنا پر برا نہیں کہا جاسکتا کہ انہوں نے حضرت ہاجرہ و اسمعیل علیہما السلام کی مخالفت کی،اس لیے یہاں عادی فرمایاخالفنہ فرمایا اورلی ولیافرمایاولی اللهنہ فرمایا۔
۳
؎یعنی مجھ تک پہنچنے کے بہت ذریعہ ہیں،مگر ان تمام ذرائع سے زیادہ محبوب ذریعہ ادائے فرائض ہے اسی لیے صوفیاء فرماتے ہیں کہ فرائض کے بغیر نوافل قبول نہیں ہوتے ان کا ماخذ یہ حدیث ہے افسوس ان لوگوں پر جو فرض عبادات میں سستی کریں اور نوافل پر زور دیں اور ہزار افسوس ان پر جو بھنگ،چرس حرام گانے بجانے کو خدا رسی کا ذریعہ سمجھے نماز روزے کے قریب نہ جائیں۔
۴
؎یعنی بندہ مسلمان فرض عبادات کے ساتھ نوافل بھی ادا کرتا رہتا ہے حتی کہ وہ میرا پیارا ہوجاتا ہے کیونکہ وہ فرائص و نوافل کا جامع ہوتا ہے۔(مرقات)اس کا مطلب یہ نہیں کہ فرائص چھوڑ کر نوافل ادا کرے محبت سے مراد کامل محبت ہے۔
۵
؎اس عبادت کا یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالٰی ولی میں حلول کرجاتا ہے جیسے کوئلہ میں آگ یا پھول میں رنگ و بوکہ خدا تعالٰی حلول سے پاک ہے اور یہ عقیدہ کفر ہے بلکہ اس کے چند مطلب ہیں: ایک یہ کہولی اللهکے یہ اعضاء گناہ کے لائق نہیں رہتے ہمیشہ ان سے نیک کام ہی سرزد ہوتے ہیں اس پر عبادات آسان ہوتی ہے گویا ساری عبادتیں اس سے میں کرارہا ہوں یا یہ کہ پھر وہ بندہ ان اعضاء کو دنیا کے لیے استعمال نہیں کرتا،صرف میرے لیے استعمال کرتا ہے ہر چیز میں مجھے دیکھتا ہے ہر آواز میں میری آواز سنتا ہے،یا یہ کہ وہ بندہفنا فی اللهہوجاتا ہے جس سے خدائی طاقتیں اس کے اعضاء میں کام کرتی ہیں اور وہ ویسے کام کرلیتا ہے جو عقل سے وراء ہیں حضرت یعقوب علیہ السلام نے کنعان میں بیٹھے ہوئے مصر سے چلی ہوئی قمیص یوسفی کی خوشبو سونگھ لی،حضرت سلیمان علیہ السلام نے تین میل کے فاصلہ سے چیونٹی کی آواز سن لی حضرت آصف برخیا نے پلک جھپکنے سے پہلے یمن سے تخت بلقیس لاکر شام میں حاضر کردیا۔حضرت عمر نے مدینہ منورہ سے خطبہ پڑھتے ہوئے نہاوند تک اپنی آواز پہنچادی۔حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے قیامت تک کے واقعات بچشم ملاحظہ فرمالیے۔یہ سب اسی طاقت کے کرشمے ہیں آج نار کی طاقت سے ریڈیو تار،وائرلیس ٹیلی ویژن عجیب کرشمے دکھا رہے ہیں تو نور کی طاقت کا کیا پوچھنا اس حدیث سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو طاقت اولیاء کے منکر ہے،بعض صوفیاء جوش میںسبحانی ما اعظم شانیکہہ گئے بعض نے کہامافی حبیتی الا اللهیہ سب اسی فنا کے آثار تھے،مولانا فرماتے ہیں۔شعر
چوں روا باشد انا اللہ ا ز درخت کے روانہ بود کہ گوید نیک بخت
۶
؎یعنی وہ بندہ مقبول الدعاء بن جاتا ہے کہ مجھ سے خیر مانگے یا شر سے پناہ میں اس کی ضرور سنتا ہوں۔ معلوم ہوا کہ اولیاء رب تعالٰی کی پناہ میں رہتے ہیں تو جو شخص ان سے دعا کرائے اس کی قبول ہوگی اور جو ان کی پناہ میں آئے وہ رب کی پناہ میں آجائے گا،مولانا جامی فرماتے ہیں۔شعر
یارسول اللہ بدرگاہت پناہ آوردہ ام
ہمچو کا ہے آمدم کو ہے گناہ آوردہ ام
۷
؎سبحان الله !کیا نازو انداز والا کلام ہے یعنی میں رب ہوں اور اپنے کسی فیصلہ میں کبھی نہ توقف کرتا ہوں نہ تامل،جو چاہوں حکم کروں،مگر ایک موقعہ پر ہم توقف و تامل فرماتے ہیں وہ یہ کہ کسی ولی کا وقت موت آجائے اور وہ ولی ابھی مرنا نہ چاہے تو ہم اسے فورًا نہیں مار دیتے بلکہ اسے اولًا موت کی طرف مائل کردیتے ہیں جنت اور وہاں کی نعمتیں اسے دکھا دیتے ہیں اور بیماریاں پریشانیاں اس پر نازل کردیتے ہیں جس سے ا س کا دل دنیا سے متنفر ہوجاتا ہے اور آخرت کا مشتاق پھر وہ خود آنا چاہتا ہے اور خوش خوش ہنستا ہوا ہمارے پاس آتا ہے،یہاں تردد کے معنے حیرانی و پریشانی نہیں کہ وہ بے علمی سے ہوتی ہے رب تعالٰی اس سے پاک ہے بلکہ مطلب وہ ہے جو فقیر نے عرض کیا موسیٰ علیہ السلام کی وفات کا واقعہ اس حدیث کی تفسیر ہے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ انبیاء کرام کو موت و زندگی کا اختیار دیا جاتا ہے وہ حضرات اپنے اختیار سے خوشی خوشی موت قبول کرتے ہیں اور یار خنداں رود بجانب یار کا ظہور ہوتا ہے ڈاکٹر اقبال کہتے ہیں۔شعر
نشان مرد مؤمن با توگویم
چوں قضاء آید تبسم برلب اوست
غرضکہ ہماری موت تو چھوٹنے کا دن ہے اور اولیاء انبیاء کی وفات پیاروں سے ملنے کا دن اسی لیے ان کی موت کے دن کو عرس یعنی شادی کا دن کہاجاتاہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی کے ارادہ مشیت،رضا کراہت میں بہت فرق ہے بعض چیزیں رب تعالٰی کو ناپسند ہیں مگر ان کا ارادہ ہے بعض چیزیں پسند ہیں مگر ان کا ارادہ نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2266