- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- دعاؤں کا بیان
- حدیث نمبر 2266
باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2266
دعاؤں کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى قَالَ: مَنْ عَادٰى لِيْ وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهٗ بِالْحَرْبِ،وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِيْ بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِيْ يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰى أَحْبَبْتُهٗ،فَإِذَا أَحْبَبْتُهٗ فَكُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِيْ يَسْمَعُ بِهٖ ، وَبَصَرَهُ الَّذِيْ يُبْصِرُ بِهٖ ، وَيَدَهُ الَّتِيْ يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِيْ يَمْشِيْ بِهَا، وَإِنْ سَأَلَنِيْ لأُعْطِيَنَّهٗ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِيْ لأُعِيْذَنَّهٗ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهٗ تَرَدُّدِيْ عَنْ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَنَا أَكْرَهُ مُسَاءَتَهٗ، وَلَا بُدَّ لَهٗ مِنْهُ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن الله تعالى قال: من عادى لي وليا فقد آذنته بالحرب،وما تقرب إلي عبدي بشيء أحب إلي مما افترضت عليه، وما يزال عبدي يتقرب إلي بالنوافل حتى أحببته،فإذا أحببته فكنت سمعه الذي يسمع به ، وبصره الذي يبصر به ، ويده التي يبطش بها، ورجله التي يمشي بها، وإن سألني لأعطينه، ولئن استعاذني لأعيذنه، وما ترددت عن شيء أنا فاعله ترددي عن نفس المؤمن يكره الموت وأنا أكره مساءته، ولا بد له منه". رواه البخاري.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے جو میرے کسی ولی ۱؎سے عداوت رکھے میں اس سے اعلان جنگ دیتا ہوں ۲؎اور میرے کسی بندے کا بمقابلہ فرائض عبادتوں کے دوسرے ذریعہ سے مجھ سے قریب ہونا مجھے زیادہ پسند نہیں ۳؎اور میرا بندہ نوافل کے ذریعہ سے قریب ہوتا رہتا ہےحتی کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۴؎پھر جب اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کے کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتاہے اور اس کی آنکھیں ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتاہے اور اس کے ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے ۵؎اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو اسے دیتا ہوں اور اگر میری پناہ لیتا ہے تو اسے پناہ دیتا ہوں ۶؎اور جو مجھے کرنا ہوتا ہے اس میں کبھی میں تردد نہیں کرتا جیسے کہ میں اس مؤمن کی جان نکالنے میں توقف کرتا ہوں جو موت سے گھبراتا ہے اور میں اسے ناخوش کرنا پسند نہیں کرتا ادھر موت بھی اس کے لیے ضروری ہے ۷؎(بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎ولی اللہ وہ بندہ ہے جس کا اللہ تعالٰی والی وارث ہوگیا کہ اسے ایک آن کے لیے بھی اس کے نفس کے حوالے نہیں کرتا بلکہ خود اس سے نیک کام لیتا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَھُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیۡنَ"۔اور وہ بندہ ہے جو خود رب تعالٰی کی عبادت کا متولی ہوجائے،پہلی قسم کے ولی کا نام مجذوب یا مراد ہے اور دوسرے کا نام سالک یا مرید ہے وہاں ہر مراد مرید ہے اور ہر مرید مراد فرق صرف ابتداء میں ہے یہ مقامقالسے وراء ہے حال سے معلوم ہوسکتاہے۔
۲؎یعنی جو میرے ایک ولی کا دشمن ہے وہ مجھ سے جنگ کرنے کو تیار ہوجائے،خدا کی پناہ ۔ یہ کلمہ انتہائی غضب کا ہے صرف دو گناہوں پر بندے کو رب تعالٰی کی طرف سے اعلان جنگ دیاگیا ہے ایک سود خوار دوسرے دشمن اولیاء رب تعالٰی فرماتاہے:"فَاۡذَنُوۡا بِحَرْبٍ مِّنَ اللہِ وَرَسُوۡلِہٖ"۔علماء فرماتے ہیں کہ ولی کا دشمن کافر ہے اور اس کے کفر پر مرنے کا اندیشہ ہے۔(مرقات)خیال رہے کہ ایک ہےولی اللهسے اس لیے عداوت و عناد کہولی اللهہے یہ تو کفر ہے اسی کا یہاں ذکر ہے اور ایک ہے کسی ولی سے اختلاف رائے یہ نہ کفر ہے نہ فسق لہذا اس حدیث کی بناء پر یوسف علیہ السلام کے بھائی اور وہ صحابہ جن کی آپس میں لڑائیاں رہیں ان کو برا نہیں کہا جاسکتا کہ وہاں اختلاف رائے تھا عناد نہ تھا۔ عناد و اختلاف میں بڑا فرق ہے،اس کے لیے ہماری کتاب امیر معاویہ دیکھئے حتی کہ حضرت سارا کو اس بنا پر برا نہیں کہا جاسکتا کہ انہوں نے حضرت ہاجرہ و اسمعیل علیہما السلام کی مخالفت کی،اس لیے یہاں عادی فرمایاخالفنہ فرمایا اورلی ولیافرمایاولی اللهنہ فرمایا۔
۳؎یعنی مجھ تک پہنچنے کے بہت ذریعہ ہیں،مگر ان تمام ذرائع سے زیادہ محبوب ذریعہ ادائے فرائض ہے اسی لیے صوفیاء فرماتے ہیں کہ فرائض کے بغیر نوافل قبول نہیں ہوتے ان کا ماخذ یہ حدیث ہے افسوس ان لوگوں پر جو فرض عبادات میں سستی کریں اور نوافل پر زور دیں اور ہزار افسوس ان پر جو بھنگ،چرس حرام گانے بجانے کو خدا رسی کا ذریعہ سمجھے نماز روزے کے قریب نہ جائیں۔
۴؎یعنی بندہ مسلمان فرض عبادات کے ساتھ نوافل بھی ادا کرتا رہتا ہے حتی کہ وہ میرا پیارا ہوجاتا ہے کیونکہ وہ فرائص و نوافل کا جامع ہوتا ہے۔(مرقات)اس کا مطلب یہ نہیں کہ فرائص چھوڑ کر نوافل ادا کرے محبت سے مراد کامل محبت ہے۔
۵؎اس عبادت کا یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالٰی ولی میں حلول کرجاتا ہے جیسے کوئلہ میں آگ یا پھول میں رنگ و بوکہ خدا تعالٰی حلول سے پاک ہے اور یہ عقیدہ کفر ہے بلکہ اس کے چند مطلب ہیں: ایک یہ کہولی اللهکے یہ اعضاء گناہ کے لائق نہیں رہتے ہمیشہ ان سے نیک کام ہی سرزد ہوتے ہیں اس پر عبادات آسان ہوتی ہے گویا ساری عبادتیں اس سے میں کرارہا ہوں یا یہ کہ پھر وہ بندہ ان اعضاء کو دنیا کے لیے استعمال نہیں کرتا،صرف میرے لیے استعمال کرتا ہے ہر چیز میں مجھے دیکھتا ہے ہر آواز میں میری آواز سنتا ہے،یا یہ کہ وہ بندہفنا فی اللهہوجاتا ہے جس سے خدائی طاقتیں اس کے اعضاء میں کام کرتی ہیں اور وہ ویسے کام کرلیتا ہے جو عقل سے وراء ہیں حضرت یعقوب علیہ السلام نے کنعان میں بیٹھے ہوئے مصر سے چلی ہوئی قمیص یوسفی کی خوشبو سونگھ لی،حضرت سلیمان علیہ السلام نے تین میل کے فاصلہ سے چیونٹی کی آواز سن لی حضرت آصف برخیا نے پلک جھپکنے سے پہلے یمن سے تخت بلقیس لاکر شام میں حاضر کردیا۔حضرت عمر نے مدینہ منورہ سے خطبہ پڑھتے ہوئے نہاوند تک اپنی آواز پہنچادی۔حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے قیامت تک کے واقعات بچشم ملاحظہ فرمالیے۔یہ سب اسی طاقت کے کرشمے ہیں آج نار کی طاقت سے ریڈیو تار،وائرلیس ٹیلی ویژن عجیب کرشمے دکھا رہے ہیں تو نور کی طاقت کا کیا پوچھنا اس حدیث سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو طاقت اولیاء کے منکر ہے،بعض صوفیاء جوش میںسبحانی ما اعظم شانیکہہ گئے بعض نے کہامافی حبیتی الا اللهیہ سب اسی فنا کے آثار تھے،مولانا فرماتے ہیں۔شعر
چوں روا باشد انا اللہ ا ز درخت کے روانہ بود کہ گوید نیک بخت
۶؎یعنی وہ بندہ مقبول الدعاء بن جاتا ہے کہ مجھ سے خیر مانگے یا شر سے پناہ میں اس کی ضرور سنتا ہوں۔ معلوم ہوا کہ اولیاء رب تعالٰی کی پناہ میں رہتے ہیں تو جو شخص ان سے دعا کرائے اس کی قبول ہوگی اور جو ان کی پناہ میں آئے وہ رب کی پناہ میں آجائے گا،مولانا جامی فرماتے ہیں۔شعر
یارسول اللہ بدرگاہت پناہ آوردہ ام
ہمچو کا ہے آمدم کو ہے گناہ آوردہ ام
۷؎سبحان الله !کیا نازو انداز والا کلام ہے یعنی میں رب ہوں اور اپنے کسی فیصلہ میں کبھی نہ توقف کرتا ہوں نہ تامل،جو چاہوں حکم کروں،مگر ایک موقعہ پر ہم توقف و تامل فرماتے ہیں وہ یہ کہ کسی ولی کا وقت موت آجائے اور وہ ولی ابھی مرنا نہ چاہے تو ہم اسے فورًا نہیں مار دیتے بلکہ اسے اولًا موت کی طرف مائل کردیتے ہیں جنت اور وہاں کی نعمتیں اسے دکھا دیتے ہیں اور بیماریاں پریشانیاں اس پر نازل کردیتے ہیں جس سے ا س کا دل دنیا سے متنفر ہوجاتا ہے اور آخرت کا مشتاق پھر وہ خود آنا چاہتا ہے اور خوش خوش ہنستا ہوا ہمارے پاس آتا ہے،یہاں تردد کے معنے حیرانی و پریشانی نہیں کہ وہ بے علمی سے ہوتی ہے رب تعالٰی اس سے پاک ہے بلکہ مطلب وہ ہے جو فقیر نے عرض کیا موسیٰ علیہ السلام کی وفات کا واقعہ اس حدیث کی تفسیر ہے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ انبیاء کرام کو موت و زندگی کا اختیار دیا جاتا ہے وہ حضرات اپنے اختیار سے خوشی خوشی موت قبول کرتے ہیں اور یار خنداں رود بجانب یار کا ظہور ہوتا ہے ڈاکٹر اقبال کہتے ہیں۔شعر
نشان مرد مؤمن با توگویم
چوں قضاء آید تبسم برلب اوست
غرضکہ ہماری موت تو چھوٹنے کا دن ہے اور اولیاء انبیاء کی وفات پیاروں سے ملنے کا دن اسی لیے ان کی موت کے دن کو عرس یعنی شادی کا دن کہاجاتاہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی کے ارادہ مشیت،رضا کراہت میں بہت فرق ہے بعض چیزیں رب تعالٰی کو ناپسند ہیں مگر ان کا ارادہ ہے بعض چیزیں پسند ہیں مگر ان کا ارادہ نہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2266