Main Icon

باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2279

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَن عَبدِ اللّٰهِ بنِ بُسرٍ: أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنَّ شَرَائِعَ الإِسْلَامِ قَدْ كَثُرَتْ عَلَيَّ، فَأَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ أَتَشَبَّثُ بِهٖ قَالَ: "لَا يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِنْ ذِكْرِ اللّٰهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ.

وعن عبد الله بن بسر: أن رجلا قال: يا رسول الله! إن شرائع الإسلام قد كثرت علي، فأخبرني بشيء أتشبث به قال: "لا يزال لسانك رطبا من ذكر الله". رواه الترمذي وابن ماجه، وقال الترمذي: هذا حديث حسن غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن بسر سے کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ اسلام کے احکام شرعیہ بہت ہیں ۱؎مجھے کوئی ایک بات ایسی بتادیں جسے میں مضبوط تھام لوں فرمایا تمہاری زبان اللہ کے ذکر میں تر رہے ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎جو تفصیل وار مجھے یاد نہیں ہوسکتے وہ مجھ پر غالب ہیں،معلوم ہوا کہ مکمل عالم بننا فرض نہیں بلکہ فرض کفایہ ہے،ورنہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم انہیں تمام مسائل سیکھنے کا حکم دیتے۔
۲
؎غالبًا سائل کا سوال نوافل کے متعلق تھا،اس لیے انہیں یہ جواب دیا گیا مقصد یہ ہے کہ ہر وقت زبان پر کوئی ذکر اللہ جاری رہے نہ معلوم موت کب آجائے جب بھی ملک الموت تمہاری جان نکالنے آئیں تو تمہیں غافل نہ پائیں، اللہ تعالٰی ایسی زندگی نصیب کرے،رطب فرما کر اشارۃً بتایا کہ جیسے تر لکڑی آگ میں نہیں جلتی ایسے ہی اللہ کا ذکر زبان کی تری ہے جس سے بندہ دوزخ میں نہ جل سکے گا۔
۳
؎یہ حدیث ابن حبان،ابن ابی شیبہ اور حاکم نے بھی روایت کی ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2279