Main Icon

باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2270

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَن عَبْدِ اللّٰهِ بنِ بُسْرٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ فَقَالَ: "طُوْبٰى لِمَنْ طَالَ عُمْرُهٗ، وَحَسُنَ عَمَلُهٗ" قَالَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "أَنْ تُفَارِقَ الدُّنْيَا وَلِسَانُكَ رَطْبٌ مِنْ ذِكْرِ اللّٰهِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ.

وعن عبد الله بن بسر قال: جاء أعرابي إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- فقال: أي الناس خير؟ فقال: "طوبى لمن طال عمره، وحسن عمله" قال: يا رسول الله! أي الأعمال أفضل؟ قال: "أن تفارق الدنيا ولسانك رطب من ذكر الله". رواه أحمد والترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن بسر سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ایک بدوی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا کون شخص اچھا ہے فرمایا مژدہ ہو اسے جس کی عمر لمبی ہو اور اعمال اچھے ہوں ۲؎عرض کیا یارسول اللہ کون سا عمل افضل ہے فرمایا یہ کہ تم دنیا کو اس حال میں چھوڑو کہ تمہاری زبان اللہ کے ذکر سے تر ہو۳؎(احمد،ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ خود اور آپ کے والد بسر آپ کے بھائی عطیہ،آپ کی بہن صحاء تمام صحابہ ہیں یہ حضرات ایک ساتھ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں کھانا کھلایا اور ان کے لیے دعاء خیر فرمائی، شام میں سب سے آخری صحابی آپ ہی ہیں۔(اشعہ)
۲
؎ظاہر یہ ہی ہے کہ یہ فرمان خبر ہے اور طوبٰی سے مراد مژدہ و خوشخبری ہے بعض نے فرمایا کہ یہ کلام دعائیہ ہے اور طوبیٰ سے مراد جنت کا مشہور درخت طوبٰی ہے یعنی جس کی عمر دراز اور اعمال نیک ہوں،خدا کرے اسے طوبیٰ درخت ملے مگر یہ خلاف ظاہر ہے۔ (مرقات)
۳
؎دنیا چھوڑنے سے مراد مرنا ہے،یعنی جب تمہیں موت آئے تو تمہاری زبان اللہ کے ذکر میں چل رہی ہو،یا ابھی ابھی چل چکی ہو لہذا اس میں وہ لوگ بھی داخل ہیں جن کی زبان مرتے وقت بند ہوتی ہیں۔مگر بند ہوتے وقت ذکر اللہ پر بند ہوئی تھی۔ تر سے مطلب یہ ہے کہ اللہ کا نام بہ آسانی اس کی زبان پر جاری ہو تر لکڑ ی کو آگ نہیں جلاتی،اور تر زبان کو دوزخ کی آگ نہ جلائے گیان شاء الله۔حق تعالٰی ایسی موت نصیب کرے،بعض علماء نے فرمایا کہ ذکر قلبی سے ذکر زبانی بہتر ہے ان کی دلیل یہ حدیث بھی ہے،ذکر زبانی نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے جس کے فرشتے گواہ ہوتے ہیں اور ذکر قلبی کی نہ تحریر ہوتی ہے نہ گواہی ۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ طبرانی میں مرفوعًا حدیث نقل فرمائی کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہر خشک و تر چیز وں کے پاس ذکر اللہ کرو تاکہ یہ چیزیں تمہارے ایمان کی گواہ ہوں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2270