Main Icon

باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2282

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مَالِكٍ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- كَانَ يَقُوْلُ: "ذَاكِرُ اللّٰهِ فِي الْغَافِلِيْنَ كَالْمُقَاتِلِ خَلْفَ الْفَارِّينَ، وَذَاكِرُ اللّٰهِ فِي الْغَافِلِيْنَ كَغُصْنٍ أَخْضَرَ فِي شَجَرٍ يَابِسٍ".

وعن مالك قال: بلغني أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كان يقول: "ذاكر الله في الغافلين كالمقاتل خلف الفارين، وذاكر الله في الغافلين كغصن أخضر في شجر يابس".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مالک سے فرماتے ہیں مجھے خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے تھے ۱؎غافلوں میں اللہ کا ذکر کرنے والا ایسا ہے جیسے بھاگ جانے والوں میں مجاہد ۲؎اور غافلوں میں اللہ کا ذکر کرنے والا ایسا ہے جیسے خشک درخت میں ہری شاخ۔

شرح حدیث

۱∞؎امام مالک رحمۃ اللہ علیہ تبع تابعی ہیں لہذا اس حدیث میں اول کے دو راوی چھوٹ گئے تابعی اور صحابی مگر کوئی حرج نہیں امام مالک جیسے محدث کی ایسی احادیث مقبول ہیں ،جب امام بخاری کی تعلیق معتبر ہے تو امام مالک کی تعلیق بدرجہ اتم معتبر ہے۔
۲
؎کہ جب سارے غازی کفار کے مقابلہ سے بھاگ جائیں اور ایک غازی اپنی جگہ ڈٹا رہے حتی کہ مارتے مارتے خود شہید ہوجائے وہ بڑے درجے والا ہے ایسے ہی غافل مسلمان بھگوڑے غازی ہیں ان میں اکیلا یہ ذاکر بڑا بہادر مجاہد ہے ذاکرین میں ذکر اللہ کرنا آسان ہے مگر جب ماحول گندہ ہو پھر صاف رہنا بہت مشکل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2282