Main Icon

باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2280

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ سَعِيدٍ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- سُئِلَ: أَيُّ الْعِبَادِ أفضَلُ وَأَرْفَعُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: "الذَّاكِرُوْنَ اللّٰهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتُ" قِيلَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! وَمِنَ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللّٰهِ؟ قَالَ: "لَوْ ضَرَبَ بِسَيْفِهٖ فِي الْكُفَّارِ وَالْمُشْرِكِينَ حَتّٰى يَنْكَسِرَ وَيَخْتَضِبَ دَمًا، فَإِنَّ الذَّاكِرَ لِلَّهِ أَفْضَلُ مِنْهُ دَرَجَةً". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ .

وعن أبي سعيد: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- سئل: أي العباد أفضل وأرفع درجة عند الله يوم القيامة؟ قال: "الذاكرون الله كثيرا والذاكرات" قيل: يا رسول الله! ومن الغازي في سبيل الله؟ قال: "لو ضرب بسيفه في الكفار والمشركين حتى ينكسر ويختضب دما، فإن الذاكر لله أفضل منه درجة". رواه أحمد والترمذي وقال: هذا حديث غريب .

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کون بندے اللہ کے نزدیک افضل اور قیامت کے دن بلند درجے والے ہیں ۱؎فرمایا اللہ کا بہت ذکر کرنے والےاور بہت ذکر کرنے والی عورتیں ۲؎عرض کیا گیا یارسول اللہ اللہ کی راہ کا غازی کون ہے ۳؎فرمایا اگر غازی مشرکین اور کفار پر تلوار اتنی چلائے کہ تلوار ٹوٹ جائے اور خون میں رنگ جائے ۴؎تب بھی اللہ کا ذکر کرنے والا اس سے درجہ میں زیادہ ہوگا۵؎(احمد و ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎سبحان الله !کیسا پیارا اور جامع سوال ہے کہ ایسا بندہ کون ہے جس کا ثواب بھی زیادہ ہو اور قرب الٰہی بھی زیادہ۔ خیال رہے کہ ثواب اور ہے قرب و درجہ کچھ اور۔اور اگر بادشاہ کسی موقع پر ایک سپاہی کو لاکھ روپیہ انعام دے دے اور وزیر کو کچھ نہ دے اس وقت اگرچہ انعام سپاہی نے پایا مگر درجہ وزیر ہی کا زیادہ ہے۔
۲
؎ذکر سے مراد زبان و دل کے سارے ہی ذکر ہیں خصوصًا وہ ذکر جو احادیث شریفہ میں مذکور ہیں کہ وہ دوسرے ذکروں سے بہتر ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ذکر اللہ زیادتی ثواب کا بھی ذریعہ ہے اور زیادتی قرب الٰہی کا بھی وسیلہ،دین و دنیا کی نعمتیں ذکر اللہ سے ملتی ہیں،زیادتی ذکر سے مراد ہے کہ اس کے اکثر اوقات ذک.ر میں گھرے ہوں دوسرے مشغلوں کے لیے بہت کم وقت بچے۔(مرقات و لمعات)
۳
؎بعض غازی غنیمت کے لیے بعض ملک جیتنے کی غرض سے بعض اپنی شجاعت دکھانے بعض اسلام پھیلانے کے لیے کفار پر جہاد کرتے ہیں ان سب میںفی سبیل اللهغازی کون ہے۔
۴
؎اس طرح کہ غازی اپنے خون میں لتھڑ جائے یعنی شہید ہوجائے۔خلاصہ یہ ہے کہ یہ شخص غازی بھی درجہ اول کا ہو اور شہید بھی اعلیٰ مرتبہ کا۔
۵
؎اس کی وجہ ظاہر کہ ذکر مقصودی عبادت ہے اور جہاد غیر مقصودی عبادت کیونکہ جہاد اللہ کا ذکر پھیلانے ہی کے لیے تو ہوتا ہے،نیز جہاد ہے غازی کا کام اور ذکر اللہ میں ہے اللہ کا نام اوریقینًا رب تعالٰی کا نام ہمارے کام سے بہتر ہے نیز جہاد کی جزا ہے جنت اور ذکر اللہ کی جزاء ہےذکر عبدہ۔رب تعالٰی فرماتاہے:"فَاذْکُرُوۡنِیۡۤ اَذْکُرْکُمْ"کہ یہاں درجہ سے مراد جنسی درجہ ہے نہ کہ شخصی درجہ یعنی ذاکر مجاہد سے بدرجہا بہتر ہے اشارۃً یہ بھی فرمایا گیا کہ بوقت جہاد غازی اللہ کا ذکر کرتا رہے کوئی نماز حتی المقدور نہ چھوڑے ہاتھ میں تلوار زبان پر ذکر یا ر ہو پھرسبحان اللهکیا پوچھنا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2280