Main Icon

باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2269

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ وَأَزْكَاهَا عِنْدَ مَلِيْكِكُمْ؟ وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ؟ وَخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ إِنْفَاقِ الذَّهَبِ والوَرِقِ؟ وخَيْرٍ لَكُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوْا أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوْا أَعْنَاقَكُمْ؟ " قَالُوْا: بَلٰى، قَالَ: "ذِكْرُ اللّٰهِ". رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ، إِلَّا أَنَّ مَالِكًا وَقَفَهٗ عَلٰى أَبِي الدَّرْدَاءِ.

عن أبي الدرداء قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ألا أنبئكم بخير أعمالكم وأزكاها عند مليككم؟ وأرفعها في درجاتكم؟ وخير لكم من إنفاق الذهب والورق؟ وخير لكم من أن تلقوا عدوكم فتضربوا أعناقهم ويضربوا أعناقكم؟ " قالوا: بلى، قال: "ذكر الله". رواه مالك وأحمد والترمذي وابن ماجه، إلا أن مالكا وقفه على أبي الدرداء.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابی الدرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا میں تمہیں ایسے بہترین اعمال نہ بتادوں جو رب کے نزدیک بہت ستھرے اور تمہارے درجے بہت بلند کرنے والے اور تمہارے لیے سونا چاندی خیرات کرنے سے بہتر ہوں ۱؎اور تمہارے لیے اس سے بھی بہتر ہو کہ تم دشمن سے جہاد کرو کہ تم ان کی گردنیں مارو اور وہ تمہیں شہید کریں صحابہ نے عرض کیا ہاں فرمایا وہ عمل اللہ کا ذکر ہے ۲؎(مالک،احمد، ترمذی،ابن ماجہ)مگر مالک نے یہ حدیث حضرت ابوالدرداء پرموقوف کی۳؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بدنی و مالی عبادات سے افضل ہوں۔
۲
؎اگر یہاں ذکر اللہ سے مراد زبانی ذکر ہے تو اس کی افضیلت کی وجہ یہ ہے کہ ذکر اللہ بلاواسطہ رب تعالٰی تک پہنچاتا ہے اور دوسری عبادتیں بالواسطہ اور ظاہر ہے کہ بلاواسطہ پہنچانے والا بالواسطہ سے افضل ہے۔اور اگر ذکر سے مراد قلبی و دلی ذکر اللہ ہے تو ظاہر ہے کہ یہ ذکر دلی عبادت ہے اور دوسری عبادات بدنی عبادت اور دل بادشاہ ہے۔اعضاء اس کی رعایا بادشاہ کا عمل بھی رعایا کے اعمال سے افضل ہے،اسی لیے رب تعالٰی نے قرآن کریم میں ذکر اللہ کے بڑے درجے بیان فرمائے کہ فرمایا"فَاذْکُرُوۡنِیۡۤ اَذْکُرْکُمْ"تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کرو ں گا حدیث قدسی ہے "انا جلیس من ذکرنی"میں اپنے ذاکر کا ہم نشین ہوں۔ اس سے معلوم ہواکہ بعض آسان عمل مشکل عملوں سے درجہ میں بڑھ جاتے ہیں دیکھو ذکر اللہ آسان ہے اور جہاد دشوار مگر ثواب میں ذکر اللہ بڑھ گیا مگر یہ اس جہاد کا ذکر ہے جو اللہ کی یاد سے خالی ہو،لیکن اگر ہاتھ میں تلوار اور زبان پر ذکر یار ہو توسبحان اللهسب سے بہتر۔ شیخ نے فرمایا کہ بعض لازم عمل متعدی عمل سے بہتر ہوجاتے ہیں جیسا یہاں ہوا ۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ جہاد میں کافروں کو مارا جاتا ہے اور ذکر اللہ میں نفس و شیطان کو اسی لیے ذکر اللہ جہاد اکبر ہے کہ اس میں دل کا تزکیہ ہے پھر ذکروں میں بعض ذکر دوسرے ذکروں سے افضل ہیں جیسے تلاوت قرآن شریف و درود شریف دوسرے اذکار سے بہتر ہیں۔
۳
؎یعنی مؤطا امام مالک میں تو یہ حدیث موقوف ہے اور باقی محدثین کے ہاں مرفو ع اسے حاکم نے بھی مستدرک میں مرفوعًا ہی نقل فرمایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2269