Main Icon

باب : الله عزوجل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2281

دعاؤں کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "الشَّيْطَانُ جَاثِمٌ عَلٰى قَلْبِ ابْنِ آدَمَ، فَإِذَا ذَكَرَ اللّٰهَ خَنَسَ، وَإِذا غفَلَ وَسْوَسَ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ تَعْلِيْقًا.

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "الشيطان جاثم على قلب ابن آدم، فإذا ذكر الله خنس، وإذا غفل وسوس". رواه البخاري تعليقا.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے شیطان انسان کے دل پر چمٹا رہتا ہے ۱؎جب انسان اللہ کا ذکر کرتا ہے تو ہٹ جاتا ہے اور جب انسان غافل ہوتا ہے تو وہ وسوسے ڈالتا ہے ۲؎(بخاری تعلیقًا)

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ شیطان سے مراد قرین شیطان ہے۔ہر انسان کے ساتھ الگ الگ ایک شیطان رہتا ہے ابلیس مراد نہیں،وہ تو ان تمام شیاطین کا منتظم ہے یعنی شیطان کی منزل انسان کا دل ہے جہاں وہ ایسا چمٹا رہتا ہے جیسے شہد سے مکھی۔ خیال رہے کہ غافل کے دل پر شیطان کی منزل ہے،اور کافر کے دل میں شیطان کا گھر ہے،اس جگہ ابن آدم سے مراد غافل مسلمان ہے نہ کہ کافر جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ وسوسہ سے غفلت نہیں آتی بلکہ غفلت سے وسوسے آتے ہیں،لہذا ذکر اللہ و سوسوں کا علاج ہے یہاں ذکر سے مراد مسلمان کا ذکر اللہ ہے نہ کہ کافر کا، کافر کے دل میں سے شیطان تو ایمان سے نکلے گا،بغیر ایمان اگر سارا قرآن بھی پڑھ لے شیطان نہ نکلے گا۔کیونکہ مسافر کو منزل سے ہٹانا آسان ہے مگر کسی کو اس کے گھر سے نک مشکل۔خلاصہ یہ ہے کہ مؤمن کا دل مالا مال گھر ہے شیطان چور ہے غفلت تاریکی ہے اور ذکر اللہ نور و روشنی۔ چور ہمیشہ اندھیرے میں آتا ہے،اجیالا ہوتا ہی بھاگ جاتا ہے،مؤمن کو چاہیئے کہ اپنے دل کے گھر میں ذکر اللہ کا اجالا رکھے تاکہ اس چور سے امن رہے یوں تو ہر ذکر اللہ دفع وسوسہ کے لیے مفید ہے،مگر لاحول شریف اور اذان دفع شیطان کے لیے اکسیر ہے،اسی لیے بعد دفن قبر پر اذان کہی جاتی ہے کہ مردے سے شیطان دور رہے اور اسے وسوسہ نہ دے تاکہ مردہ امتحا ن میں کامیاب ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2281