Main Icon

باب :اعتکاف کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2097

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتّٰى تَوَفَّاهُ اللّٰهُ، ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهٗ مِنْ بَعْدِهٖ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن عائشة: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يعتكف العشر الأواخر من رمضان حتى توفاه الله، ثم اعتكف أزواجه من بعده . متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرتے تھے حتی کہ انے انہیں وفات دی ۱؎پھر آپ کی بیویوں نے آپ کے بعد اعتکاف کیا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس ہمیشگی سے معلوم ہوا کہ اعتکاف سنت مؤکدہ ہے اور چونکہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم امت کو صراحۃً نہ دیا بلکہ رغبت دی معلوم ہوا کہ یہ اعتکاف واجب نہیں کیونکہ وجوب کے لیے حکم دینا ضروری ہے،لہذا یہ حدیث احناف کی دلیل ہے کہ رمضان کا اعتکاف سنت مؤکدہ ہے،پھر سارے مدینہ منورہ میں صرف حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اور بعض صحابہ ہی اعتکاف کرتے تھے سب مسلمان نہ کرتے تھے، معلوم ہوتا ہے کہ اعتکاف سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے۔
۲
؎یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی ازواج پاک نے ہمیشہ اپنے گھروں میں اعتکاف کیا نہ کہ مسجد نبوی شریف میں مسجد میں تو ایک بار ان بیویوں نے اعتکاف کیا تھا،اعتکاف کے لیے کپڑے کے خیمے لگائے تھے جو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اکھڑوادیئے تھے۔ فقہا فرماتے ہیں کہ اگرچہ عورت مسجد میں بھی باپردہ رہ کر اعتکاف کرسکتی ہے مگر اس کے لیے گھر میں اعتکاف بہت اچھا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2097