Main Icon

باب :اعتکاف کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2102

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَعْتكِفُ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَلَمْ يَعْتَكِفْ عَامًا، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ اعْتَكَفَ عِشْرِيْنَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

عن أنس قال: كان النبي -صلى الله عليه وسلم- يعتكف في العشر الأواخر من رمضان، فلم يعتكف عاما، فلما كان العام المقبل اعتكف عشرين. رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے ایک سال اعتکاف نہ کرسکے ۱؎جب اگلاسال آیا تو حضورانور نے بیس دن اعتکاف کیا ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎کسی مجبوری کی وجہ سے ورنہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے بلاعذر اعتکاف کبھی نہ چھوڑا،ہمیشہ رمضان کے آخری عشرے میں کرتے تھے۔(مرقات)
۲
؎ظاہر یہ ہے کہ یہ گزشتہ رمضان کے اعتکاف کی قضا ء نہ تھی ورنہ اس رمضان تک انتظار نہ فرماتے،وہ رمضان گزرتے ہی قضاء کرلیتے جیسے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے آخری رمضان میں جس کے بعد وفات شریف واقع ہوئی بیس دن اعتکاف فرمایا تھا ایسے ہی اس رمضان میں کیا، ہوسکتاہے کہ دس دن گزشتہ رمضان کی قضاء ہی ہوں تو یہ قضا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات سے ہے ورنہ آپ پر اعتکاف فرض نہ تھا اور قضاءصرف فرض یا واجب کی ہوتی ہے جیسے ایک دفعہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ظہر چار رکعت رہ گئی تھیں تو بعد عصران کی قضاء کی پھر ہمیشہ یہ رکعتیں پڑھتے رہے،وہ بھی خصوصیات میں سے تھا۔ مرقات نے فرمایا کہ موقت نفلوں کی قضا کرلینا بہتر ہے جیسے نفل تہجد۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2102