Main Icon

باب :اعتکاف کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2099

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ يُعْرَضُ عَلَى النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- الْقُرْآنُ كُلَّ عَامٍ مَرَّةً،فَعُرِضَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ فِي الْعَامِ الَّذِيْ قُبِضَ، وَكَانَ يَعْتَكِفُ كُلَّ عَامٍ عَشْرًا، فَاعْتَكَفَ عَشْرَيْنِ فِي الْعَامِ الَّذِيْ قُبِضَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن أبي هريرة قال: كان يعرض على النبي -صلى الله عليه وسلم- القرآن كل عام مرة،فعرض عليه مرتين في العام الذي قبض، وكان يعتكف كل عام عشرا، فاعتكف عشرين في العام الذي قبض. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم پر سارا قرآن ایک بار پیش کیا جاتا تھا جس سال حضور انور کو وفات دی گئی اس سال دوبار پیش کیا گیا ۱؎اور حضور ہر سال دس دن اعتکاف کرتے تھے وفات کے سال بیس دن اعتکاف کیا ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی شروع نبوت سے ما بعد ہجرت شروع سے ہر رمضان میں حضرت جبریل اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک پارہ روز دورہ کرتے تھے جس سے پورے رمضان میں ایک ختم ہوتا تھا وفات کے سال دو پارہ روز دور کیا جس سے مہینہ میں دو ختم ہوئے۔ یوں سمجھو کہ افضل رسول پر افضل مہینہ میں افضل کلام افضل مقام میں لاکر سنتے اور سناتے تھے،یہاں معاوضہ سے مراد مدارستہ ہے یعنی دور شعر
نور آیا نور لایا نور پر نورانی رات
اس لیے رمضان کا سارا مہینہ نور ہے
۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی وفات کی خبر تھی کہ اس سال ہوگی اسی لیے اس سال سفر آخرت کی تیاری خصوصیت سے فرمارہے ہیں یہ حدیث اہل سنت کے بہت سے مسائل کی اصل ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ ہر شخص بڑھاپے میں یا مرض وفات میں خصوصیت سے آخرت کی تیاری کرے دنیاوی تعلقات کم کرنا شروع کردے یہ بھی سنت رسولی ہے، اللہ تعالٰی توفیق دے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2099