Main Icon

باب :بارش مانگنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1497

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ إِلَى المُصَلّٰى يَسْتَسْقِي فَصَلّٰى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ جَهَرَ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ يَدْعُو وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَحَوَّلَ رِدَاءَهٗ حِينَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن عبد الله بن زيد قال: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم بالناس إلى المصلى يستسقي فصلى بهم ركعتين جهر فيهما بالقراءة واستقبل القبلة يدعو ورفع يديه وحول رداءه حين استقبل القبلة(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت عبد الله ابن زید سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم لوگوں کو دعائے بارش کےلیئےعیدگاہ لے گئے تو انہیں دو رکعتیں پڑھائیں جن میں آواز سے قرأت کی اور دعا مانگتے ہوئے قبلہ رو ہوئے اپنے ہاتھ اٹھائے اور جب قبلہ کو منہ کیا تو اپنی چادر الٹی ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ عبد الله ابن زیاد ابن عاصم ابن مازنی انصاری ہیں،خودبھی صحابی ہیں اور والدین بھی صحابی،آپ بدرمیں شریک نہ تھے، احد میں تھے، آپ نے وحشی کے ساتھ مل کر مسیلمہ کذاب کو قتل کیا،یہ عبد الله ابن زیاد ابن عبدربہ نہیں ہیں جنہوں نے اذان خواب میں دیکھی تھی،وہ بھی انصاری ہیں مگر وہ بیعت عقبہ اورجنگ بدر وغیرہ میں شریک ہوئے۔(مرقاۃ)۲؎اس سےمعلوم ہوا کہ نماز استسقاءنمازعید کی طرح جنگل میں پڑھی جائےباجماعت،اس میں قرأت بلند آوازسےہو۔بہتر یہ ہے کہ پہلی رکعت میں سورۂقٓاور دوسری میں غاشیہ پڑھی جائے بعدمیں خطبہ ہو،پھرقبلہ رخ ہوکر دعا مانگی جائے اور دعا میں اپنی چادر الٹی کی جائے کہ خدایا جیسے چادر کا رخ بدل گیا ایسے ہی موسم کا رخ بدل دے۔یہ تمام چیزیں سنت ہیں،ہاں سنت مؤکدہ نہیں کیونکہ حضورصلی الله علیہ وسلم نے کبھی یہ نماز ادا کی ہے،کبھی صرف دعامانگی۔امام اعظم کے سنیتسے انکاری کابھی یہی مطلب ہے۔خیال رہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم کی چادرشریف چارگزلمبی اور دوگز ایک بالشت چوڑی تھی۔جن روایات میں آیا ہے کہ آپ نے رکعت اول میں سات تکبیریں کہیں اور دوسری میں پانچ وہ سب ضعیف ہیں کیونکہ ان سب میں محمد ابن عبدالعزیز ابن عمر ابن عبدالرحمن ابن عوف ہے جسے بخاری نے منکر حدیث فرمایا اور نسائی نے متروک الحدیث کہا،ابوحاتم نے ضعیف الحدیث قرار دیااسی لیے ان احادیث پرکسی نےعمل نہیں کیا، نمازاستسقاءکی ہر رکعت میں ایک ایک ہی تکبیر ہوگی دیگر نوافل کی طرح۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1497