Main Icon

باب :بارش مانگنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1508

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَن عَائِشَة قَالَتْ: شَكَا النَّاسُ إِلٰى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُحُوطَ الْمَطَرِ فَأَمَرَ بِمِنْبَرٍ فَوُضِعَ لَهٗ فِي الْمُصَلّٰى وَوَعَدَ النَّاسَ يَوْمًا يَخْرُجُونَ فِيهِ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ فَقَعَدَ عَلَی المِنْبَرِ فَكَبَّرَ وَحَمِدَ اللهَ عَزَّوَجَلَّ ثُمَّ قَالَ: “إِنَّكُمْ شَكَوْتُمْ جَدْبَ دِيَارِكُمْ وَاسْتِئْخَارَ الْمَطَرِ عَنْ أَبَّانِ زَمَانِهٖ عَنْكُمْ وَقَدْ أَمَرَكُمُ اللهُ أَنْ تَدْعُوهُ وَوَعَدَكُمْ أَنْ يَسْتَجِيبَ لَكُمْ” . ثُمَّ قَالَ: “الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مٰلِكِ يَوْمِ الدِّينِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ اَللّٰهُمَّ أَنْتَ اللهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ. أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلٰى حِينٍ” ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمْ يَتْرُكِ الرَّفْعَ حَتّٰى بَدَا بَيَاضُ إِبِطَيْهِ ثُمَّ حَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهٗ وَقَلَّبَ أَوْ حَوَّلَ رِدَاءَهٗ وَهُوَ رَافِعُ يَدَيْهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ وَنَزَلَ فَصَلّٰى رَكْعَتَيْنِ فَأَنْشَأَ اللهُ سَحَابَةً فَرَعَدَتْ وَبَرَقَتْ ثُمَّ أَمْطَرَتْ بِإِذْنِ اللهِ فَلَمْ يَأْتِ مَسْجِدَهٗ حَتّٰى سَالَتِ السُّيُولُ فَلَمَّا رَأٰى سُرْعَتَهُمْ إِلَى الكَنِّ ضَحِكَ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى بَدَت نَوَاجِذُهٗ فَقَالَ: “أَشْهَدُ أَنَّ اللهَ عَلیٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنِّي عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ” . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

عن عائشة قالت: شكا الناس إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم قحوط المطر فأمر بمنبر فوضع له في المصلى ووعد الناس يوما يخرجون فيه. قالت عائشة: فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم حين بدا حاجب الشمس فقعد علی المنبر فكبر وحمد الله عزوجل ثم قال: “إنكم شكوتم جدب دياركم واستئخار المطر عن أبان زمانه عنكم وقد أمركم الله أن تدعوه ووعدكم أن يستجيب لكم” . ثم قال: “الحمد لله رب العالمين الرحمن الرحيم ملك يوم الدين لا إله إلا الله يفعل ما يريد اللهم أنت الله لا إله إلا أنت الغني ونحن الفقراء. أنزل علينا الغيث واجعل ما أنزلت لنا قوة وبلاغا إلى حين” ثم رفع يديه فلم يترك الرفع حتى بدا بياض إبطيه ثم حول إلى الناس ظهره وقلب أو حول رداءه وهو رافع يديه ثم أقبل علی الناس ونزل فصلى ركعتين فأنشأ الله سحابة فرعدت وبرقت ثم أمطرت بإذن الله فلم يأت مسجده حتى سالت السيول فلما رأى سرعتهم إلى الكن ضحك صلى الله عليه وسلم حتى بدت نواجذه فقال: “أشهد أن الله علی كل شيء قدير وأني عبد الله ورسوله” . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ لوگوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے بارش رک جانے کی شکایت کی ۱∞؎تو منبر کا حکم دیا جوعیدگاہ میں بچھادیا گیا اور لوگوں سے ایک دن کا وعدہ کیا جب لوگ نکلیں ۲؎ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جب سورج کا کنارہ چمکا تو تشریف لے گئے منبر پر بیٹھے الله کی تکبیر و حمد کی پھر فرمایا کہ تم لوگوں نے اپنے شہر کے قحط کی بارش کے وقت سے ہٹ جانے کی شکایت کی الله نے تمہیں دعا مانگنے کا حکم دیا اور تم سے دعا کی قبولیت کا وعدہ کیا ۳؎یعنی فرمایا تمام تعریفیں الله رب العلمین کی ہیں جو مہربان رحم والا ہے قیامت کے دن کا مالک ہے الله کے سواءکوئی معبودنہیں جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے الہی تو الله ہے تیرے سواءکوئی معبودنہیں تو بے پروا ہے ہم فقیر ہیں ہم پر بارش برسا اور جو تو اتارے اسے ہمارےلیئے قوۃ اور مطلوب تک پہنچنےکا ذریعہ بنا ۴؎پھر اپنے ہاتھ اٹھائے تو اٹھاتے رہے حتی کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی ظاہرہوگئی پھرلوگوں کی طرف اپنی پشت کی اور اپنی چادرپلٹی حالانکہ ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے پھرلوگوں پرمتوجہ ہوئے منبرسے اترے دو رکعتیں پڑھیں ۵؎الله نے ایک بادل پیدا کیا جو الله کے حکم سےگرجاچمکا پھر برسا آپ مسجد تک نہ آنے پائے تھے کہ سیلاب بہہ گئے جب حضور نے لوگوں کو پناہ کی طرف دوڑتے دیکھا تو ہنسے حتی کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے ۶؎پھر فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ الله ہر چیز پرقادر ہے اور میں الله کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۷؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بارش کا زمانہ ہے اورنہیں آتی۔اس سے دو مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ قحط کی شکایت حضورصلی الله علیہ وسلم سےکرسکتے ہیں تاکہ حضورصلی الله علیہ وسلم سفارش کریں اور ہماری بگڑی بن جائے،رب تعالٰی خودحضورصلی الله علیہ وسلم سے بندوں کی شکایت کرتا ہے، فرماتا ہے:"اُنۡظُرْکَیۡفَ ضَرَبُوۡا لَكَ الۡاَمْثَالَدوسرے یہ کہ صحابہ کبارحضورصلی الله علیہ وسلم کو بارگاہِ الٰہی میں اپنا بڑا وسیلہ جانتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ ہمارے اعمال کی مقبولیت یقینی نہیں حضورصلی الله علیہ وسلم یقینًا مقبول ہیں،اسی لیے وہ ایسےموقعوں پر خود نمازیں اور دعائیں ادا نہ کرلیتے تھے بلکہ دوڑے ہوئے حضورصلی الله علیہ وسلم کی بارگاہ میں آتے تھے،حالانکہ انہوں نے قرآن میں یہ آیت پڑھی تھی"ادْعُوۡنِیۡۤ اَسْتَجِبْ لَکُمْاس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جوکہتے ہیں کہ انبیاءواولیاء کے وسیلہ کی کوئی ضرورت نہیں اپنے اعمال کا وسیلہ پکڑو گویا ان کےنزدیک ان کے اعمال حضور صلی الله علیہ وسلم سے زیادہ مقبول ہیں۔۲؎کہ فلاں دن تم سب وہاں جمع ہوکر جاؤ ہم بھی پہنچ جائیں گے،شاید قبولیت کی گھڑی اسی دن میں ہوگی جیسے کہ یعقوب علیہ السلام نے اپنے لڑکوں سے فرمایا تھا"سَاَسْتَغْفِرُلَکُمْ"یعنی تمہارےلیئے دعائے مغفرت ابھی نہیں پھر کروں گا۔۳؎لہذا تم میرے وسیلہ سے دعا کررہے ہو میں تمہارےلیئے دعا اور شفاعت کرتا ہوں اسی لیے حضورصلی الله علیہ وسلم نے اس دن یوں نہیں فرمادیا کہ جاؤ خود دعائیں مانگ لومیرے پاس کیوں آئے۔۴؎اس سےمعلوم ہوا کہ دعا سے پہلے الله کی حمد اپنی فقیری اورنیازمندی کا اظہارسنت ہے۔خیال رہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم بارگاہ الٰہی میں اپنےلیئے جوکلمے چاہیں استعمال کریں لیکن اگرکوئی اورحضورصلی الله علیہ وسلم کو فقیر کہے تو کافر ہوگا۔(عالمگیری)حضورصلی الله علیہ وسلم تو وہ غنی داتا ہیں جن کی گلیوں میں تاجدار بھیک مانگتے پھرتے ہیں۔شعر
اس گلی کاگدا ہوں میں جس میں مانگتے تاجدار پھرتے ہیں
وہ تو باذن الله غنی ہیں،غنی گر ہیں۔
رب تعالٰی فرماتا ہے:"اَغْنٰہُمُ اللّٰہُ وَرَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضْلِہٖرب سے مانگنا بندے کی شان ہے،اس کے سب فقیر ہیں۔۵؎حضورصلی الله علیہ وسلم نے آج خطبہ اور دعا پہلے پڑھی اورنماز بعدمیں۔غالبًا اس لیے کہ جب آپ جنگل پہنچتے ہیں تو سورج نکل رہا تھا وقت مکروہ تھا ورنہ خطبۂ استسقاء اور دعا نماز کے بعد ہوتی ہے جیساکہ گزشتہ روایات سےمعلوم ہوا۔۶؎ہنسنے سے مراد تبسم اورمسکرانا ہے نہ ٹھٹھا مارنا اور قہقہ کیونکہ حضورصلی الله علیہ وسلم قہقہہ مارکرکبھی نہ ہنسے،حضور صلی الله علیہ وسلم کا یہ تبسم خوشی اورتعجب کا تھاکہ ابھی تو یہ لوگ بارش مانگ رہے تھے جب آئی تو بھاگ رہے ہیں۔نواجذجمعناجذةکی ہے۔ناجذہدانتوں کی کیلوں کوبھی کہتے ہیں اور آخری داڑھ کوبھی یعنی عقل داڑھ۔۷؎معلوم ہوا کہ بارش حضورصلی الله علیہ وسلم کا معجزہ تھی اور آپ کی نبوت کی دلیل،یعنی آج حضورصلی الله علیہ وسلم نے اپنی نبوت صحابہ کو آنکھوں سے دکھادی اس کی عینی گواہی دی اور دلوائی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1508