- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- حدیث نمبر 1508
باب :بارش مانگنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1508
نماز کا بیان - جلد 2
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَن عَائِشَة قَالَتْ: شَكَا النَّاسُ إِلٰى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُحُوطَ الْمَطَرِ فَأَمَرَ بِمِنْبَرٍ فَوُضِعَ لَهٗ فِي الْمُصَلّٰى وَوَعَدَ النَّاسَ يَوْمًا يَخْرُجُونَ فِيهِ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ فَقَعَدَ عَلَی المِنْبَرِ فَكَبَّرَ وَحَمِدَ اللهَ عَزَّوَجَلَّ ثُمَّ قَالَ: “إِنَّكُمْ شَكَوْتُمْ جَدْبَ دِيَارِكُمْ وَاسْتِئْخَارَ الْمَطَرِ عَنْ أَبَّانِ زَمَانِهٖ عَنْكُمْ وَقَدْ أَمَرَكُمُ اللهُ أَنْ تَدْعُوهُ وَوَعَدَكُمْ أَنْ يَسْتَجِيبَ لَكُمْ” . ثُمَّ قَالَ: “الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مٰلِكِ يَوْمِ الدِّينِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ اَللّٰهُمَّ أَنْتَ اللهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ. أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلٰى حِينٍ” ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمْ يَتْرُكِ الرَّفْعَ حَتّٰى بَدَا بَيَاضُ إِبِطَيْهِ ثُمَّ حَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهٗ وَقَلَّبَ أَوْ حَوَّلَ رِدَاءَهٗ وَهُوَ رَافِعُ يَدَيْهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ وَنَزَلَ فَصَلّٰى رَكْعَتَيْنِ فَأَنْشَأَ اللهُ سَحَابَةً فَرَعَدَتْ وَبَرَقَتْ ثُمَّ أَمْطَرَتْ بِإِذْنِ اللهِ فَلَمْ يَأْتِ مَسْجِدَهٗ حَتّٰى سَالَتِ السُّيُولُ فَلَمَّا رَأٰى سُرْعَتَهُمْ إِلَى الكَنِّ ضَحِكَ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى بَدَت نَوَاجِذُهٗ فَقَالَ: “أَشْهَدُ أَنَّ اللهَ عَلیٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنِّي عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ” . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
عن عائشة قالت: شكا الناس إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم قحوط المطر فأمر بمنبر فوضع له في المصلى ووعد الناس يوما يخرجون فيه. قالت عائشة: فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم حين بدا حاجب الشمس فقعد علی المنبر فكبر وحمد الله عزوجل ثم قال: “إنكم شكوتم جدب دياركم واستئخار المطر عن أبان زمانه عنكم وقد أمركم الله أن تدعوه ووعدكم أن يستجيب لكم” . ثم قال: “الحمد لله رب العالمين الرحمن الرحيم ملك يوم الدين لا إله إلا الله يفعل ما يريد اللهم أنت الله لا إله إلا أنت الغني ونحن الفقراء. أنزل علينا الغيث واجعل ما أنزلت لنا قوة وبلاغا إلى حين” ثم رفع يديه فلم يترك الرفع حتى بدا بياض إبطيه ثم حول إلى الناس ظهره وقلب أو حول رداءه وهو رافع يديه ثم أقبل علی الناس ونزل فصلى ركعتين فأنشأ الله سحابة فرعدت وبرقت ثم أمطرت بإذن الله فلم يأت مسجده حتى سالت السيول فلما رأى سرعتهم إلى الكن ضحك صلى الله عليه وسلم حتى بدت نواجذه فقال: “أشهد أن الله علی كل شيء قدير وأني عبد الله ورسوله” . رواه أبو داود
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ لوگوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے بارش رک جانے کی شکایت کی ۱∞؎تو منبر کا حکم دیا جوعیدگاہ میں بچھادیا گیا اور لوگوں سے ایک دن کا وعدہ کیا جب لوگ نکلیں ۲؎ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جب سورج کا کنارہ چمکا تو تشریف لے گئے منبر پر بیٹھے الله کی تکبیر و حمد کی پھر فرمایا کہ تم لوگوں نے اپنے شہر کے قحط کی بارش کے وقت سے ہٹ جانے کی شکایت کی الله نے تمہیں دعا مانگنے کا حکم دیا اور تم سے دعا کی قبولیت کا وعدہ کیا ۳؎یعنی فرمایا تمام تعریفیں الله رب العلمین کی ہیں جو مہربان رحم والا ہے قیامت کے دن کا مالک ہے الله کے سواءکوئی معبودنہیں جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے الہی تو الله ہے تیرے سواءکوئی معبودنہیں تو بے پروا ہے ہم فقیر ہیں ہم پر بارش برسا اور جو تو اتارے اسے ہمارےلیئے قوۃ اور مطلوب تک پہنچنےکا ذریعہ بنا ۴؎پھر اپنے ہاتھ اٹھائے تو اٹھاتے رہے حتی کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی ظاہرہوگئی پھرلوگوں کی طرف اپنی پشت کی اور اپنی چادرپلٹی حالانکہ ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے پھرلوگوں پرمتوجہ ہوئے منبرسے اترے دو رکعتیں پڑھیں ۵؎الله نے ایک بادل پیدا کیا جو الله کے حکم سےگرجاچمکا پھر برسا آپ مسجد تک نہ آنے پائے تھے کہ سیلاب بہہ گئے جب حضور نے لوگوں کو پناہ کی طرف دوڑتے دیکھا تو ہنسے حتی کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے ۶؎پھر فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ الله ہر چیز پرقادر ہے اور میں الله کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۷؎(ابوداؤد)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی بارش کا زمانہ ہے اورنہیں آتی۔اس سے دو مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ قحط کی شکایت حضورصلی الله علیہ وسلم سےکرسکتے ہیں تاکہ حضورصلی الله علیہ وسلم سفارش کریں اور ہماری بگڑی بن جائے،رب تعالٰی خودحضورصلی الله علیہ وسلم سے بندوں کی شکایت کرتا ہے، فرماتا ہے:"اُنۡظُرْکَیۡفَ ضَرَبُوۡا لَكَ الۡاَمْثَالَ"۔دوسرے یہ کہ صحابہ کبارحضورصلی الله علیہ وسلم کو بارگاہِ الٰہی میں اپنا بڑا وسیلہ جانتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ ہمارے اعمال کی مقبولیت یقینی نہیں حضورصلی الله علیہ وسلم یقینًا مقبول ہیں،اسی لیے وہ ایسےموقعوں پر خود نمازیں اور دعائیں ادا نہ کرلیتے تھے بلکہ دوڑے ہوئے حضورصلی الله علیہ وسلم کی بارگاہ میں آتے تھے،حالانکہ انہوں نے قرآن میں یہ آیت پڑھی تھی"ادْعُوۡنِیۡۤ اَسْتَجِبْ لَکُمْ"۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جوکہتے ہیں کہ انبیاءواولیاء کے وسیلہ کی کوئی ضرورت نہیں اپنے اعمال کا وسیلہ پکڑو گویا ان کےنزدیک ان کے اعمال حضور صلی الله علیہ وسلم سے زیادہ مقبول ہیں۔۲؎کہ فلاں دن تم سب وہاں جمع ہوکر جاؤ ہم بھی پہنچ جائیں گے،شاید قبولیت کی گھڑی اسی دن میں ہوگی جیسے کہ یعقوب علیہ السلام نے اپنے لڑکوں سے فرمایا تھا"سَاَسْتَغْفِرُلَکُمْ"یعنی تمہارےلیئے دعائے مغفرت ابھی نہیں پھر کروں گا۔۳؎لہذا تم میرے وسیلہ سے دعا کررہے ہو میں تمہارےلیئے دعا اور شفاعت کرتا ہوں اسی لیے حضورصلی الله علیہ وسلم نے اس دن یوں نہیں فرمادیا کہ جاؤ خود دعائیں مانگ لومیرے پاس کیوں آئے۔۴؎اس سےمعلوم ہوا کہ دعا سے پہلے الله کی حمد اپنی فقیری اورنیازمندی کا اظہارسنت ہے۔خیال رہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم بارگاہ الٰہی میں اپنےلیئے جوکلمے چاہیں استعمال کریں لیکن اگرکوئی اورحضورصلی الله علیہ وسلم کو فقیر کہے تو کافر ہوگا۔(عالمگیری)حضورصلی الله علیہ وسلم تو وہ غنی داتا ہیں جن کی گلیوں میں تاجدار بھیک مانگتے پھرتے ہیں۔شعر
اس گلی کاگدا ہوں میں جس میں مانگتے تاجدار پھرتے ہیں
وہ تو باذن الله غنی ہیں،غنی گر ہیں۔رب تعالٰی فرماتا ہے:"اَغْنٰہُمُ اللّٰہُ وَرَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضْلِہٖ"۔رب سے مانگنا بندے کی شان ہے،اس کے سب فقیر ہیں۔۵؎حضورصلی الله علیہ وسلم نے آج خطبہ اور دعا پہلے پڑھی اورنماز بعدمیں۔غالبًا اس لیے کہ جب آپ جنگل پہنچتے ہیں تو سورج نکل رہا تھا وقت مکروہ تھا ورنہ خطبۂ استسقاء اور دعا نماز کے بعد ہوتی ہے جیساکہ گزشتہ روایات سےمعلوم ہوا۔۶؎ہنسنے سے مراد تبسم اورمسکرانا ہے نہ ٹھٹھا مارنا اور قہقہ کیونکہ حضورصلی الله علیہ وسلم قہقہہ مارکرکبھی نہ ہنسے،حضور صلی الله علیہ وسلم کا یہ تبسم خوشی اورتعجب کا تھاکہ ابھی تو یہ لوگ بارش مانگ رہے تھے جب آئی تو بھاگ رہے ہیں۔نواجذجمعناجذةکی ہے۔ناجذہدانتوں کی کیلوں کوبھی کہتے ہیں اور آخری داڑھ کوبھی یعنی عقل داڑھ۔۷؎معلوم ہوا کہ بارش حضورصلی الله علیہ وسلم کا معجزہ تھی اور آپ کی نبوت کی دلیل،یعنی آج حضورصلی الله علیہ وسلم نے اپنی نبوت صحابہ کو آنکھوں سے دکھادی اس کی عینی گواہی دی اور دلوائی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1508