Main Icon

باب :بارش مانگنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1507

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَاكِئُ فَقَالَ: “اَللّٰهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيئًا مُرِيعًا نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ عَاجِلًا غَيْرَ آجِلٍ” . قَالَ: فَأُطْبِقَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن جابر قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يواكئ فقال: “اللهم اسقنا غيثا مغيثا مريئا مريعا نافعا غير ضار عاجلا غير آجل” . قال: فأطبقت عليهم السماء. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتےہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو ہاتھ اٹھائے دیکھا ۱∞؎فرماتے تھے الٰہی ہمیں ایسے بادل سے سیراب کر جوسیرکرنے والا نقصان نہ دینے والا،فراخی پیداکرنے والا،نفع بخش غیر مضرہوفورًا آئے دیر نہ ہوفرمایا کہ فورًا ہی ان پر آسمان گھر گیا۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎مواکات،تو کع،اتکاء یہ سب ایک ہی ماہ سے بنے ہیں،جس کے معنی ہیں اعتمادکرنا،ٹیک لگانا،اٹھانا،پھیلانا،یہاں آخری دومعنی میں ہے یعنی آپ ہاتھ اٹھائے اور پھیلائے ہوئے تھے۔۲؎یہ ہے دعائےمحبوبانہ اور وہ ہے قبولیت حبیبانہ،محبوب نے کہابارش میں دیر نہ لگے،چاہنے والے رب نے فرمایا کہ فورًا لو۔جن احادیث میں ہے کہ انسان دعا میں جلدی نہ کرے وہاں عبدیت کی تعلیم ہےیا یہ مطلب ہے کہ ظہور قبولیت میں اگر دیر لگے تو دعا سے بد دل نہ ہو اور لوگوں سے رب کی شکایت نہ کرےلہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1507