Main Icon

باب :بارش مانگنے کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1509

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ إِذا قُحِطُوْا اِسْتَسْقٰى بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ: اَللّٰهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا. قَالَ: فَيُسْقَوْنَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

وعن أنس أن عمر بن الخطاب كان إذا قحطوا استسقى بالعباس بن عبد المطلب فقال: اللهم إنا كنا نتوسل إليك بنبينا فتسقينا وإنا نتوسل إليك بعم نبينا فاسقنا. قال: فيسقون. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ جب لوگ قحط میں مبتلا ہوتے تو حضرت عمر ابن خطاب جناب عباس ابن عبدالمطلب کے توسل سے دعائے بارش کرتے ۱∞؎اور عرض کرتے الٰہی ہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی کا وسیلہ پکڑتے تھے تو بارش بھیجتا تھا اور اب ہم تیرے نبی کے چچا کا وسیلہ پکڑتے ہیں ۲؎ہم پر بارش بھیج تو لوگ سیراب کیئے جاتے تھے۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎تاکہ معلوم ہوکہ صرف نبی کا ہی وسیلہ نہیں ہوتا بلکہ ان کی امت کے اولیاء کا وسیلہ بھی ہوسکتا ہے،ان کی برکت سے رحمتیں آتی ہیں،حضرت عمر جناب عباس کا وسیلہ اس طرح لیتے کہ ان کے توسل سے بارگاہ الٰہی میں دعا کرتے جیساکہ آگے آرہا ہے اورحضرت عباس عرض کرتے کہ خدایا یہ لوگ تیرے محبوب کی نسبت کی وجہ سے میرا وسیلہ لے رہے ہیں،خدایا اس بڑھاپے میں مجھے رسواء شرمندہ نہ کر یہ کہتے ہی بارش آتی تھی۔(اشعۃ اللمعات)۲؎یعنی تیرے نبی کی ظاہری حیات میں ہم اس طرح ان کا وسیلہ لیتے تھے کہ ان سےبارش کی دعاکراتے تھے،ان کے ساتھ جاکرنماز استسقاء پڑھتے،ان کے چہرۂ انورکی طرف اشارہ کرکے کہتے تھے کہ مولیٰ اس نورانی چہرہ کی برکت سے بارش بھیج۔شعروَأبْيَضُ يُسْتسْقَى الغَمَامُ بِوَجْهِهٖ
ثِمَالُ الْيَتَامٰى عِصْمَةٌ لِلْأرَامِلِ
اب ان کی ظاہری حیات شریف کی برکت سے یہ اشارہ والا،یہ نمازوں،ان کی دعاؤں والا وسیلہ ناممکن ہوگیا تو اب ان کے چچا کے وسیلہ سے بارش بھیج۔خیال رہے کہ حضرت عمر نے حضور صلی الله علیہ وسلم کی نسبت کا وسیلہ لیا اس لیے عرض کیا کہ اپنے نبی کے چچا کے توسل سے دعا کرتے ہیں۔معلوم ہوا کہ جس کو حضور صلی الله علیہ وسلم سے نسبت
ہوجائے اس کا وسیلہ درست ہے۔
شعر
بزرگوں کی نسبت بڑی چیز ہے خدا کی یہ نعمت بڑی چیز ہے
۳
؎اس حدیث کی بنا پربعض بےعقل عالموں نے کہا ہے کہ زندہ بزرگوں کا وسیلہ پکڑنا جائز ہے مُردوں کا ناجائز،دیکھو جناب عمر نے حضورصلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کا وسیلہ چھوڑ دیا مگر یہ غلط ہے چند وجہ سے:ایک یہ کہ اس حدیث میں چھوڑنے کا ایک لفظ بھی نہیں آتا یعنی حضرت فاروق نے یہ نہیں کہا کہ اب ہم نےحضورصلی الله علیہ وسلم کا وسیلہ چھوڑ دیا۔دوسرے یہ کہ اگر حدیث کا یہ مطلب ہوتو یہ حدیث قرآنی آیات کے بھی خلاف ہوگی اور دوسری احادیث کے بھی،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَکَانَ اَبُوۡهُمَاصٰلِحًاآٹھویں بزرگ دادا کی برکت سے ان پوتوں پر الله کی یہ رحمت ہوئی کہ ان کی ٹوٹی دیوار بنانے کے واسطے دو نبی بھیجے گئے،حضرت موسیٰ و ہارون کے نعلین و عمامہ کے وسیلہ سے بنی اسرائیل جنگوں میں فتح پاگئے تھے،رب تعالٰی فرماتاہے کہ:"وَبَقِیَّۃٌ مِّمَّا تَرَکَ اٰلُ مُوۡسٰی وَاٰلُ هارُوۡنَحضورصلی الله علیہ وسلم کی ولادت سے پہلے اہل کتاب آپ کے وسیلہ سےجنگوں میں فتح پاتے تھے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَکَانُوۡا مِنۡ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوۡنَ عَلَی الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡااسی مشکوٰۃ "باب الکرامات"میں آئے گا کہ حضرت عائشہ صدیقہ نے آپ صلی الله علیہ وسلم کی قبر انور سے روضہ کی چھت ہٹوادی اور قبر انور کے وسیلہ سے دعائے بارش کی تو بارش آئی۔یہاں جناب عمر کے فرمانے کا منشا یہ ہے کہ وہ اشاروں والا اورحضورصلی الله علیہ وسلم کے پیچھے نماز استسقاءپڑھنے والا وسیلہ جاتا رہا یا یہ بتاناچاہتے ہیں کہ مسلمانوں وسیلۂ اولیاءبھی درست ہے۔اس جگہ مرقات میں ہے کہ امیرمعاویہ قحط میں حضرت یزید ابن اسود کے وسیلہ سے بارش کی دعاکرتے تھے اور ان سے بھی کہتےتھے کہ وہ بھی ہاتھا اٹھائیں فورًا بارش آتی تھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1509