Main Icon

باب: سلم اور گروی کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2883

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثِّمَارِ السَّنَةَ وَالسَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثِ فَقَالَ: « مَنْ أَسْلَفَ فِي شَيْءٍ فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلٰى أَجَلٍ مَعْلُومٍ »(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن ابن عباس قال: قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة وهم يسلفون في الثمار السنة والسنتين والثلاث فقال: « من أسلف في شيء فليسلف في كيل معلوم ووزن معلوم إلى أجل معلوم »(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم مدینہ تشریف لائے تو وہ لوگ ایک سال دو سا ل تین سال تک بیع سلم کرتے تھے ۱؎تو حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا جو کسی چیز میں بیع سلم کرے وہ مقرر پیمانے اور وزن مقرر میں معین مدت تک سلم کرے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ دانے پھل سال دو سال کے ادھا ر پر خریدتے تھے کہ قیمت آج دے دی اور دانے یا پھل سال دو سال کے بعد لیں گے۔ظاہر یہ ہے کہ دانے اور پھل ایسے ہوتے تھے جو سال بھر تک بازار میں ملتے رہیں کیونکہ بیع سلم میں یہ شرط ہے کہ وہ چیز عقد کے وقت سے ادا کے وقت تک بازار میں ملتی رہے ۔
۲
؎اس حدیث سے بیع سلم کی تین شرطیں معلوم ہوئیں:خریدی چیز کا وزن معلوم ہونا، پیمانہ معلوم ہونا ، وقت ادا مقرر ہونا۔ احناف کے ہاں تقرر مدت بیع سلم کی شرط ہے،امام شافعی کے ہا ں نہیں لہذا یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے، باقی شرائط چیز کی ذات و وصف کامعلوم ہونا،ادا کی جگہ مقرر ہونا، وقت ادا تک چیز کا بازار میں ملنا دوسری احادیث و دلائل سے معلوم ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2883