Main Icon

باب: سلم اور گروی کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2889

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمِكْيَالُ مِكْيَالُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَالْمِيزَانُ مِيزَانُ أَهْلِ مَكَّةَ.رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: المكيال مكيال أهل المدينة والميزان ميزان أهل مكة.رواه أبو داود والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ پیمانے تو مدینہ والوں کے ہیں اور ترازو مکہ والوں کے ۱؎(ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی شرعی احکام میں جہاں وزن ضروری ہے تو مکہ والوں کا وزن معتبر کہ وہ لوگ عمومًا تاجر ہیں،انہیں دن رات وزن سے کام رہتا ہے اور جہاں ناپ ضروری ہے تو مدینہ والوں کے ناپ کا اعتبار ہے کہ یہ لوگ عمومًا کاشتکار ہیں انہیں ناپنے کا کام رہتا ہے،دیکھو زکوۃ چاندی سونے کے وزن پر ہے اور وزن سے ہے تو اس میں مکہ والوں کا وزن لو اور فطرہ میں ناپ کا اعتبار ہے تو مدینہ والوں کا ناپ ملحوظ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2889