Main Icon

باب: سلم اور گروی کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2887

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَغْلَقُ الرَّهْنُ الرَّهْنَ مِنْ صَاحِبِهِ الَّذِي رَهَنَهٗ لَهٗ غُنْمُهٗ وَعَلَيْهِ غُرْمُهٗ". رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ مُرْسَلًا.

عن سعيد بن المسيب أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا يغلق الرهن الرهن من صاحبه الذي رهنه له غنمه وعليه غرمه". رواه الشافعي مرسلا.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا گروی رکھنا مرہون چیز کو اس کے گروی رکھنے والے مالک سے نہیں روکتا ۱؎اس کے لیے اس مرہون کا نفع ہے اور اس ہی پر مرہون کا تاوان ۲؎(شافعی مرسلًا)

شرح حدیث

۱∞؎لایغلقباب افعال کا مضارع معروف ہے،پہلا رہن مصدر ہے دوسرا بمعنی مرہون یعنی کسی چیز کا گروی رکھ دینا مرہون چیز کو مالک مقروض سے روکتا نہیں بلکہ اس راہن کو اس مرہون کے استعمال کا حق ہے۔
۲
؎یعنی گروی چیز کے منافعے مالک کے ہوں گے اور اس کے تمام مصارف مالک ہی پر ہوں گے وہ رہن قرض خواہ کے پاس بطور امانت مقبوض رہے گا،یہ حدیث گزشتہ حدیث کی شرح ہے کہ مالک راہن مرہون کے نفعے حاصل کرے گا اور اس پر ہی اس کے خرچے ہوں گے۔مرتہن یعنی قرض خواہ کو نفع لینے کا حق ہے نہ اس پر خرچ،یہ ہی جمہور علماء اسلام کا مذہب ہے اور یہ حدیث ان کی مؤید ہے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رہن پر قرض خواہ کا قبضہ تو ضروری ہے مگر قبضہ کا دوام ضروری نہیں،مالک کچھ دیر کے لیے قرض خواہ سے مرہون لے سکتا ہے کہ بغیر ملے اس سے نفع کیسے اٹھائے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2887