Main Icon

باب: سلم اور گروی کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2886

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الظَّهْرُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهٖ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ بِنَفَقَتِهٖ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا وَعَلَى الَّذِي يَرْكَبُ وَيَشْرِبُ النَّفَقَةُ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الظهر يركب بنفقته إذا كان مرهونا ولبن الدر يشرب بنفقته إذا كان مرهونا وعلى الذي يركب ويشرب النفقة» . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جب سواری گروی ہو تو اس کے خرچ کے عوض اس پر سوار ہوا جاسکتا ہے اور جب جانور گروی ہو تو اس کا دودھ خرچ کے عوض پیا جاسکتا ہے ۱؎اور سوار ہونے والے اور دودھ پینے والے کے ذمہ خرچ ہے ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎جمہور علماء کے نزدیک اس حدیث کے معنے یہ ہیں کہ مالک یعنی مقروض اپنی گروی چیز کا خرچہ برداشت کرے اور اس سے نفع حاصل کرسکتا ہے لہذا گروی بھینس یا گھوڑے کا خرچ مالک یعنی مقروض دے گا اور دودھ یا سواری کاحق بھی مقروض ہی کو ہوگا،اس صورت میں حدیث ظاہر ہے۔اگر یہ مطلب ہو کہ قرض خواہ گروی پر خرچ کرے اور اس کے دودھ سواری سے فائدہ اٹھائے تو احادیث ربوٰ سے یہ حدیث منسوخ ہے کہ جو قرض نفع کا ذریعہ ہو وہ حرام ہے،امام احمد و اسحاق اس حدیث کی بنا پر فرماتے ہیں کہ قرض خواہ رہن سے نفع بھی اٹھائے اس پر خرچ بھی کرے وہ بھی صرف سواری دودھ کی اجازت دیتے ہیں،باقی منافع حاصل کرنا ان کے ہاں بھی حرام ہے مگر ان کا یہ قول ضعیف بھی ہے اور جمہور علماء و احادیث ربوٰ کے مخالف بھی کیونکہ ان کے ہاں بھی اگر مرہون غلام قرض خواہ کے قبضہ میں فوت ہوجائے تو اس کا کفن دفن مالک پر ہے نہ کہ قرض خواہ پر۔
۲
؎اگر مقروض اس گروی کا دودھ وغیرہ استعمال کرے تو خرچہ اس کے ذمہ اور اگر قرض خواہ اس کی یہ چیزیں نہ دے تو رہن کی آمدنی سے اس کے یہ خرچ پورے کیے جائیں۔اگر آمدنی بچ رہے تو وہ قرض خواہ کے پاس امانت ہے جو اداء قرض کے وقت دی جائے اور اگر خرچ بڑھ جائے تو قرض میں شمار ہوگا،جب مقروض قرض اور یہ خرچ ادا کرے گا تب اپنی چیز واپس لے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2886