Main Icon

باب: سلم اور گروی کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2884

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: اشْتَرٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا من يَهُودِيٍّ إِلَى أَجَلٍ، وَرَهَنَهٗ دِرْعًا لَهٗ مِنْ حَدِيدٍ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة قالت: اشترى رسول الله صلى الله عليه وسلم طعاما من يهودي إلى أجل، ورهنه درعا له من حديد (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نےایک یہودی سے ۱؎غلہ ادھار میعاد معین تک کے لیے خریدا اور اپنی لوہے کی زرہ اس کے پاس گروی رکھی ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس یہودی کا نام ابو شحم تھا،قبیلہ بنی ظفر سے تھا یا تو اس وقت صرف اسی کے پاس فالتو جَو تھے،کسی صحابی کے پاس ضرورت سے زائد نہ تھے یا حضرات صحابہ حضور انور سے گروی لینے پر ہرگز تیار نہ تھے اور گروی رکھنا ضروری تھا تاکہ آیندہ اس گروی کے مسائل لوگوں کو معلوم ہوسکیں اسی لیے یہودی سے قرض لیا اور اسے گروی دیا،حضور انور نے ابو شحم سے کچھ ادھار لیے تھے جیساکہ دوسری روایات میں ہے۔
۲
؎اس واقعہ سے بہت سے احکام شرعیہ معلوم ہوئے:کفار سے خریدوفروخت اور قرض کا لین دین جائز ہے اگرچہ ان کی آمدنی خالص حلال نہیں،وہ شراب وسور کی بھی تجارت کرتے ہیں،سود کا کاروبار بھی کرتے ہیں،ہر مخلوط آمدنی والے کا یہ ہی حکم ہے،حضور انور نے دنیا میں زہد وقناعت اختیار کی،جنگی سامان کفار کے ہاں گروی رکھنا درست ہے اگرچہ بحالت جنگ ان کے ہاتھ ہتھیار فروخت کرنا ممنوع ہے،ذمی کفار اپنے مال واسباب کے شرعی مالک ہیں۔رہن گھر میں بھی درست ہے،قرآن کریم میں رہن رکھنے کے لئے جو سفر کی قید ہے کہ "وَ اِنۡ کُنۡتُمْ عَلٰی سَفَرٍ"الخ یہ قید اتفاقی ہے احترازی نہیں۔خیال رہے کہ کفار کے ہاتھ قرآن شریف یا مسلمان غلام فروخت کرنا ممنوع ہے،دین میں میعاد ادا مقرر ہونی چاہیے تاکہ جھگڑا نہ پڑے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2884