Main Icon

باب: سلم اور گروی کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2885

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا قَالَتْ: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهٗ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعنها قالت: توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم ودرعه مرهونة عند يهودي بثلاثين صاعا من شعير. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس حال میں وفات پائی کہ آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے عوض گروی تھی ۱؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یا تو یہ وہ ہی واقعہ ہے جو ابھی مذکورہوا یا یہ دوسرا واقعہ ہے،یہ زرہ حضرت ابوبکر صدیق نے چھوڑائی اور حضرت علی کو مرحمت فرما دی۔(مرقات)اور حضور انور کے تمام وعدے وقرض حضرت صدیق اکبر نے ادا کیے۔وہ جو روایت میں آتا ہے کہ مقروض میت کی روح ادائے قرض سے پہلے پھنسی رہتی ہے۔یہ اس صورت میں ہے کہ میت نے بلاضرورت قرض لیا ہو یا ناجائز کام کے لیے یا اس کی نیت ادا کی نہ ہو لہذا اس حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔ایک صاع ساڑھے چار سیر کا ہوتا ہے تو کل ۱۳۵ سیرجو ہوئے یعنی تین من پندرہ سیر۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2885