Main Icon

باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3342

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ هِنْدًا بِنْتَ عُتْبَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، وَلَيْسَ يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَوَلَدي، إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْهُ وَهُوَ لَا يَعْلَمُ فَقَالَ: "خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن عائشة قالت: إن هندا بنت عتبة قالت: يا رسول الله! إن أبا سفيان رجل شحيح، وليس يعطيني ما يكفيني وولدي، إلا ما أخذت منه وهو لا يعلم فقال: "خذي ما يكفيك وولدك بالمعروف". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ہند بنت عتبہ نے عرض کیا ۱؎یارسول اصلی اللہ علیہ و سلم ابو سفیان بخیل آدمی ہیں مجھے اس قدر خرچہ نہیں دیتے جو مجھے اور میری اولاد کو کافی ہو مگر یہ کہ میں ان کی بے خبری میں ان سے لے لوں ۲؎تو فرمایا جو تمہیں اور تمہاری اولاد کو کافی ہو بقدر معروف لے لو ۳؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام ہندبنت عتبہ ابن ربیعہ ابن عبد شمس ابن عبد مناف ہے یعنی عبد مناف میں حضور سے مل جاتی ہیں عتبہ کفار مکہ کا سردار تھا ہندا ابوسفیان کی بیوی اور امیر معاویہ کی والدہ ہیں،فتح مکہ کے سال ابوسفیان کے بعد ایمان لائیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کا نکاح قائم رکھا ان کے زمانہ کفر کے حالات سب کو معلوم ہیں۔ ایک دن بارگاہ رسالت میں عرض کرنے لگیں یارسول اپہلے مجھے آپ اور آپ کے صحابہ بہت ناپسند تھے اب مجھے آپ اور آپ کے صحابہ بہت ہی محبوب معلوم ہوتے ہیں حضور نے فرمایا وایضًا یعنی ابھی تم کو مجھ سے محبت اور بھی زیادہ ہوگی جس قدر تمہارا ایمان کامل ہوتا جائے گا اسی قدر میری محبت بڑھتی جائے گی یا یہ مطلب ہے کہ ہمارا بھی یہی حال ہے کہ ہم پہلے تم سے نفرت کرتے تھے اب محبت کرتے ہیں،آپ کی وفات زمانہ فاروقی میں ابو قحافہ(والد ابوبکرالصدیق)کے وفات کے دن ہوئی بڑی عالمہ فصیحہ تھیں،زمانہ فاروقی میں بہت جہادوں میں شریک ہوئیں اور بڑے کارنامہ کئے رضی اللہ عنہا۔
۲
؎یعنی ان کی جیب یا ان کے گھر سے انکی بے خبری میں جو کچھ لے لوں وہ تو مجھے آسانی سے مل جاتا ہے وہ خود اپنی خوشی سے کافی خرچہ نہیں دیتے۔
۳
؎یعنی تم کو اجازت ہے کہ بقدر ضرورت ابوسفیان سے بغیر پوچھے ان کا مال لے سکتی ہو۔خیال رہے کہ یہ فتویٰ ہے فیصلہ یعنی قضا نہیں ورنہ ابو سفیان کو بلا کر جواب دعویٰ سنا جاتا فیصلہ بغیر دوسرے فریق کے بیان لئے نہیں ہوتا۔ اس حدیث سے چند مسائل معلوم ہوئے: (۱)بیوی کا خرچہ خاوند پر لازم ہے اگرچہ بیوی غنی ہو(۲) چھوٹی اور ضرورتمند اولاد کا خرچہ باپ پر لازم ہے(۳) اہل قرابت کا خرچہ بقدر ضرورت لازم ہے(۴)فتویٰ اور فیصلہ کے وقت اجنبیہ عورت سے کلام کرنا مفتی و قاضی کو جائز ہے۔فتویٰ یا فیصلہ لینے کے لیے حاکم و عالم کے سامنے کسی کے عیب بیان کرنا جائز ہے، حق والا اپنا حق بغیر اس کی اجازت بلکہ بغیر اس کے علم کے بھی لے سکتا ہے،فتویٰ میں شرط کا بیان ضروری نہیں بغیر شرط فتویٰ دیا جاسکتا ہے یعنی یہ لازم نہیں کہ مفتی کہے کہ اگر تو سچا ہے اور صورت حال وہ ہی ہے جو تو کہتا ہے تو حکم یہ ہے بلکہ اس کے بغیر بیان کیے ہوئے حکم شرعی سنا دینا جائز ہے اگرچہ تعلیق افضل ہے۔بچہ کی پرورش کا حق ماں کو ہے لہذا وہ خاوند کا مال اس پر خرچ کرسکتی ہے،بہت سی باتیں عرف و عادت پر مبنی ہوتی ہیں جیسا کہ خرچہ وغیرہ بیوی ضرورت کے موقعہ پر حاکم یا عالم کے پاس جاسکتی ہے،غائب خاوند کے مال سے اس کی بیوی بچوں کا خرچہ دلوایا جائے جب کہ وہ روزی نہ دے گیا ہو نہ بھیجتا ہو۔بعض علماء نے اس حدیث سے قضا علی الغائب جائز مانی وہ فرماتے ہیں کہ یہ حضور کا فیصلہ تھا جو ابوسفیان کی غیرموجودگی میں ان کے خلاف دیا گیا مگر حق یہ ہے کہ یہ فتویٰ تھا۔(مرقات)ورنہ گواہی ضرور لی جاتی، بیوی ضرورت پر اپنے خاوند کا مال فروخت کرسکتی ہے کیونکہ ہندہ روپیہ پیسہ بھی ابوسفیان کی جیب سے نکال سکتی تھیں اور روپیہ پیسہ فروخت ہوکر ہی کام آتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3342