Main Icon

باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3369

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ لَاءَمَكُمْ مِنْ مَمْلُوكِيكُمْ، فَأَطْعِمُوهُ مِمَّا تَأْكُلُونَ، وَاكْسُوهُ مِمَّا تَكْسُونَ، وَمَنْ لَا يُلَائِمُكُمْ مِنْهُمْ فَبِيعُوهُ، وَلَا تُعَذِّبُوا خَلْقَ اللّٰهِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ.

وعن أبي ذر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "من لاءمكم من مملوكيكم، فأطعموه مما تأكلون، واكسوه مما تكسون، ومن لا يلائمكم منهم فبيعوه، ولا تعذبوا خلق الله". رواه أحمد وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حصرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تمہارے غلاموں سے جو تمہارے موافق ہو ا؎تو اس میں سے اسے کھلاؤ جو خود کھاتے ہو اور پہناؤ اس سے جو خود پہنتے ہو ۲؎اور جو موافق نہ ہواسے بیچ دو اکی مخلوق کو عذاب نہ دو ۳؎(احمد،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎لائم یلائمباب مفاعلہ سے ہےملائمۃبمعنی موافقت اسی سے ہے ملائم بمعنی موافق،ملائمۃ بمعنی موافقت و مناسبت یعنی جس غلام کی طبیعت تم سے مل جائے وہ تمہارے مزاج کے موافق و مناسب ہو۔
۲
؎یعنی ایسے غلام کی قدر کرو جو تمہاری خدمت میں کوتاہی نہیں کرتا تم اس کی خاطر مدارات میں کمی نہ کرو،موافق انسان مشکل سے ملتا ہے مردم شناسی بڑا جوہر ہے جس گھر میں مردم شناسی نہ ہو وہ گھر ویران ہوجائے گا اور جس ملک میں مردم شناسی نہ ہو وہ ملک برباد ہوجائے گا۔عہد فاروقی اور صدیقی میں مردم شناسی تھی جس سے ملک و ملت میں رونق لگ گئی اپنے کھانے و لباس میں سے اسے کھلانا پہنانا حکم استحبابی ہے جس سے غلام خوش ہو کر اور زیادہ خدمت کرے گا۔
۳
؎یعنی اسے اپنے پاس رکھو، مت مارو پیٹو کہ اس سے تم کو بھی تکلیف ہوگی اس کو بھی۔ علماء فرماتے ہیں کہ یہ ہی حکم موافق اور نا موافق جانور کا ہے کہ پسند آئے تو اس کی خدمت کرو نرمی سے کام لو، ناپسند ہو تو فروخت کردو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3369