Main Icon

باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3351

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ وَهُوَ بَرِيءٌ مِمَّا قَالَ؛ جُلِدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: سمعت أبا القاسم صلى الله عليه وسلم يقول: "من قذف مملوكه وهو بريء مما قال؛ جلد يوم القيامة إلا أن يكون كما قال". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو مولیٰ اپنے مملوک کو تہمت لگائے وہ اس سے بری ہو تو قیامت کے دن اسے کوڑے لگائے جائیں گے ۱؎مگر یہ واقعہ وہی ہے جو اس نے کہا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎غالبًا مملوک سے مراد لونڈی ہے اور ہوسکتا ہے کہ لونڈی غلام دونوں ہوں۔ خیال رہے کہ آزاد مسلمہ عفیفہ عورت کو زنا کی تہمت لگانے والے پر حد قذف اسی۸۰ کوڑے جاری ہوتے ہیں،مملوکہ لونڈی کو تہمت زنا لگانے والے کو یہ سزا نہیں ہوتی،سرکار فرمارہے ہیں کہ اسے یہ سزا قیامت میں تمام خلق کے سامنے کی جائے گی جس سے وہ رسوا بھی ہوگا اور سزایاب بھی،ہاں اگر واقعی لونڈی غلام زانی ہوں تو پھر الزام لگانے والے کو سزا نہ ہوگی کہ اس نے سچ کہا تھا۔ علماء فرماتے ہیں کہ لونڈی غلام کو تہمت لگانے پر اگرچہ حد نہیں مگر تعزیر ہے غلام چاہے مکمل ہو یا ابھی اس میں شائبہ غلامیت ہو جیسے مکاتب یا مدبر کسی کو تہمت لگانے پر حد نہیں۔
۲
؎یہ حدیث احمد،ابوداؤد،ترمذی نے بھی روایت کی،حاکم نے مستدرک میں حضرت عمرو ابن عاص سے مرفوعًا روایت کی کہ اگر مولیٰ یا زانیہ یا کہ اے زانی کہہ کر پکارے اسے بھی قیامت میں کوڑے لگیں گے۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو غصہ میں اپنے بچوں یا نوکروں کو حرامی کہہ دیتے ہیں کہ یہ انکی ماں کو تہمت ہے زبان قابو میں رکھنی چاہیے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3351