Main Icon

باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3361

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ وَالِدَةٍ وَوَلَدِهَا فَرَّقَ اللّٰهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَحِبَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.

وعن أبي أيوب قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من فرق بين والدة وولدها فرق الله بينه وبين أحبته يوم القيامة". رواه الترمذي والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو ایوب سے فرماتے ہیں میں نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو شخص ماں اور اس کے بچے میں جدائی ڈالے ۱؎تو اتعالٰی قیامت کے دن اس کے اور اس کے پیاروں کے درمیان ۲؎جدائی کردے گا۔(ترمذی،دارمی)۳؎

شرح حدیث

۱∞؎اس تفریق کی بہت صورتیں ہیں اور سب ممنوع۔لونڈی اپنے پاس رکھنا اس کا چھوٹا بچہ دوسرے کے ہاتھ فروخت کر دینا،دوسرے کو ہبہ کردینا،ماں کو اور جگہ رکھنا بچہ کو اور جگہ رکھنا،یہ حکم ماں بیٹے،باپ بیٹے،دادا پوتے وغیرہ سب کو شامل ہے مگر یہ حکم چھوٹے بچہ کے لیے ہے جو بغیر ماں نہ رہ سکے اور اس کے بغیر ماں بے چین رہے بڑے بچہ کی تفریق جائز ہے۔ امام شافعی کے ہاں سات سال کا بچہ بڑا ہےامام اوزاعی کے ہاں جب بچہ پیشاب پاخانہ سونا کھانا علیحدہ کرسکے،ہمارے امام اعظم کے ہاں بلوغ کی عمر کو پہنچ جانا ہے،بعض علماء تو فرماتے ہیں کہ جانوروں پر بھی یہ ظلم نہ کرو کہ بہت چھوٹے بچہ کو اس کی ماں سے جدا نہ کرو۔
۲
؎یعنی قیامت کے دن جامع المتفرقین ہے جس دن سارے اگلے پچھلے جمع ہوں گے اور خویش و اقارب کی شفاعت کام آئے گی مگر ایسا ظالم آدمی اس دن اپنے عزیزوں کی ملاقات اور ان کی شفاعت سے محروم ہوگا۔خیال رہے کہ قیامت کے اول دن میں تو کوئی کسی کو نہ پوچھے گا،بھائی بھائی سے بھاگے گا اور آخری حالات اس کے برعکس ہوں گے،وہاں ہر دوست اپنے دوست کو یاد کرکے امداد کرے گا اسی لیے قیامت کا نام یوم حشر بھی ہے اوریوم التنادبھی۔
۳
؎یہ حدیث احمد و حاکم نے بھی نقل فرمائی،طبرانی نے حضرت معقل ابن یسار سے یوں روایت کیمن فرق فلیس مناجو ماں بچہ میں جدائی کرے وہ ہماری جماعت سے نہیں۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3361