Main Icon

باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3374

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشِرَارِكُمُ؟ الَّذِي يَأْكُلُ وَحْدَهُ، وَيَجْلِدُ عَبْدَهُ، وَيَمْنَعُ رِفْدَهُ". رَوَاهُ رَزِينٌ.

وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "ألا أنبئكم بشراركم؟ الذي يأكل وحده، ويجلد عبده، ويمنع رفده". رواه رزين.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کیا میں تمہیں تم میں بدترین لوگوں کی خبر نہ دوں ؟ وہ ہے جو اکیلا کھائے ۱؎اور اپنے غلام کو کوڑے مارے اور وہ اپنی عطا ۲؎روکے (رزین)

شرح حدیث

۱∞؎یا تو بخل کی وجہ سے اکیلا کھائے بچے اور گھر والے اس کا منہ تکیں اور یہ عمدہ غذائیں اکیلا کھائے انہیں معمولی کھلائے،یا تکبر و غرور کی وجہ سے کسی کے ساتھ کھانا گوارا نہ کرے،اگر غربت و ضرورت کی وجہ سے ا کیلا کھائے تو ممنوع نہیں،ایک شخص گھر کا بوجھ اٹھاتاہے،محنت کرتا ہے اس لیے کچھ مقوی غذا کھاتا ہے تاکہ کام کاج کرسکے، وہ چیز ہے تھوڑی سی سب کو کافی نہیں تو مضائقہ نہیں،اس صور ت میں علیحدگی میں کھانا چاہیے سب کے سامنے کھانا بے مروتی ہے۔(ازمرقات مع زیادت)
۲
؎یعنی بے قصور غلاموں ماتحتوں کو مارے پیٹے اور گھر والوں مہمانوں اور نوکروں کو ان کا حق نہ دے،بخیل بھی ہو بدخلق بھی اسے بدترین اس لیے فرمایا گیا کہ بندوں کے حقوق مارتا ہے رب تعالٰی کی نافرمانی کرتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3374