Main Icon

باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3364

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ يَسَّرَ اللّٰهُ حَتْفَهُ وَأَدْخَلَهُ جَنَّتَهُ: رِفْقٌ بِالضَّعِيفِ، وَشَفَقَةٌ عَلَى الْوَالِدَيْنِ، وَإِحْسَانٌ إِلَى الْمَمْلُوكِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

وعن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "ثلاث من كن فيه يسر الله حتفه وأدخله جنته: رفق بالضعيف، وشفقة على الوالدين، وإحسان إلى المملوك". رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ جس میں تین خصلتیں ہوں گی ااس کی موت آسان کردے گا ۱؎اور اسے اپنی جنت میں داخل کر دے گا ۲؎کمزور پر نرمی اور ماں باپ سے شفقت،غلام سے اچھا سلوک ۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎حتفحکے فتحتاورفکے سکون سے بمعنی موت و ہلاکت و سکرات موت،اسی سے ہے حتف انف یعنی بستر پر پڑ کر مرنا اہل عرب کا خیال تھا کہ زخمی کے زخم سے جان نکلتی ہے اور غیر زخمی کی ناک سے نکلتی ہے اسی لیے وہ قتل کے مقابل موت کو حتف انف کہتے تھے یعنی جس شخص میں یہ تین صفات جمع ہوں اتعالٰی اس کی جان کنی آسان فرمادے گا۔
۲
؎شروع سے ہی بغیر سزا دیئے،ورنہ ہر مؤمن خواہ کتنا ہی گنہگار ہو آخر جنت میں ضرور جائے گا۔
۳
؎کمزور خواہ جسمانی حیثیت سے کمزور ہو یا مالی حیثیت سے یا عقل سے کمزور جیسے بچے اور دیوانے بے وقوف ان پر مہربانی کرو، یوں ہی ماں باپ کی خدمت بھی کرو اور ان کی ناراضی سے خوف بھی۔ شفقت شفق سے بنا بمعنی خوف و ڈر،شفقت اور محبت یا مہربانی کو کہتے ہیں جس میں ڈر بھی ہو،مملوک میں لونڈی غلام جانور وغیرہ سب داخل ہیں یہ الفاظ بہت ہی جامع ہیں،احسان سے مراد حقوق سے زیادہ ان پر مہربانی کرنا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3364