Main Icon

باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3359

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "حُسْنُ الْمَلَكَةِ يُمْنٌ، وَسُوءُ الْخُلُقِ شُؤْمٌ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَلَمْ أَرَ فِي غَيْرِ "الْمَصَابِيحِ" مَا زَادَ عَلَيْهِ فِيهِ منْ قولِهِ: "والصَّدَقةُ تَمْنَعُ مِيتةَ السُّوءِ، والبِرُّ زيادةٌ فِي العُمُرِ".

وعن رافع بن مكيث أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "حسن الملكة يمن، وسوء الخلق شؤم". رواه أبو داود، ولم أر في غير "المصابيح" ما زاد عليه فيه من قوله: "والصدقة تمنع ميتة السوء، والبر زيادة في العمر".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت رافع ابن مکیث سے ۱؎کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ خوش خلقی برکت ہے اور بدخلقی نحوست ۲؎(ابو داؤد)اور میں نے سوائے مصابیح کے وہ نہ دیکھا جو اس حدیث میں اس پر زیادہ ہے۳؎آپ کا فرمان کہ صدقہ بری موت سے بچاتا ہے اور نیکی عمر بڑھاتی ہے۴؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں صلح حدیبیہ میں شریک تھے،بنی جہینہ کے قبیلہ سے ہیں۔
۲
؎اس کا تجربہ بارہا ہوا ہے کہ خوش خلق کی دنیا درست ہوتی ہے بدخلق کے سب دشمن،گھر والے بھی اور باہر والے بھی،خوش خلق کی گھر وباہر والے سب تعظیم اور خدمت کرتے ہیں،بدخلق ہر جگہ سزا ہی پاتا ہے یہاں برکت و نحوست سے یہ ہی مراد ہے۔
۳
؎تمام محدثین کی روایتیں شوم پر ختم ہوگئیں مگر مصابیح میں اگلی عبارت اور بھی ہے کہ صدقہ بری موت سے بچاتا ہے اور نیکی عمر بڑھاتی ہے کسی محدث نے نہ بیان کی،نہ معلوم مصابیح میں کہاں سے لی گئی،یہ صاحب مصابیح پر اعتراض ہے مگر مرقاۃ نے بحوالہ شیخ جزری بیان فرمایا کہ یہ زیادتی احمد و طبرانی میں موجود ہے لہذا صاحب مصابیح پر کوئی اعتراض نہیں ،صاحب مشکوۃ کو ملی نہیں۔
۴
؎یعنی سخی آدمی اچانک اور غفلت کی موت سے یوں ہی بے صبری و فسق و فجور و ظلم کی موت سے محفوظ رہتا ہےان شاءاﷲاس کی موت ذکر و فکر نیک اعمال کی حالت میں آتی ہے بعد موت لوگ اسے اچھائی سے یاد کرتے ہیں،یوں ہی نیکیاں عمر بڑھاتی ہیں اس طرح کہ حکم الٰہی یوں ہے کہ فلاں بندہ اگر گناہ و بدکاری کرتا رہے تو اس کی عمر پچاس سال ہے اور اگر نیکیاں کرے تو اس کی عمرسو سال،یہ زیادتی عمر ایسی ہی ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ دوا مرض دفع کرتی ہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ خدا کا حکم کوئی ٹال نہیں سکتا اور موت آگے پیچھے نہیں ہوسکتی،تقدیر بدلنے کی بحث اور عمر گھٹنے بڑھنے کی تحقیق ہماری تفسیرنعیمی پارہ سوم میں ملاحظہ کیجئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3359