Main Icon

باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3355

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعنهُ عَن أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي فَقِيرٌ، لَيْسَ لِي شَيْءٌ، وَلِي يَتِيمٌ، فَقَالَ: "كُلْ مِنْ مَالِ يَتِيمِكَ غَيْرَ مُسْرِفٍ وَلَا مُبَادِرٍوَلَا مُتَأَثِّلٍ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعنه عن أبيه عن جده: أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إني فقير، ليس لي شيء، ولي يتيم، فقال: "كل من مال يتيمك غير مسرف ولا مبادرولا متأثل". رواه أبو داود والنسائي وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے وہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے راوی کہ ایک شخص نبی کریم صلی علیہ وسلم کی خدمت میں آیا بولا میں محتاج ہوں ۱؎میرے پاس کچھ نہیں اور میرے پاس ایک یتیم ہے۲؎تو فرمایا اپنے یتیم کے مال سے کھاؤ نہ فضول خرچی کرکے نہ جلد ی کر کے اور نہ مال جمع کرتے ہوئے ۳؎(ابو داؤد ، نسائی ، ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں فقیر بمعنی مسکین ہے یعنی میرے پاس کچھ نہیں۔احناف کے ہاں فقیر وہ ہے جس کے پاس مال ہو مگر نصاب سے کم کہ اس پر نہ زکوۃ واجب ہو نہ فطرہ نہ قربانی مگر مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو،امام شافعی کے ہاں اس کے برعکس مگر ان دونوں اماموں کے ہاں ہر ایک لفظ دوسرے کی جگہ استعمال ہوجاتا ہے،یہاں فقیر بجائے مسکین استعمال ہوا۔
۲
؎جس کے پاس وراثت سے ملا ہوا مال ہے اور وہ میرا عزیز قرابتی ہے میری پرورش میں ہے میں اس کا قیم و منتظم ہوں۔
۳
؎یعنی چونکہ تم اس کی خدمت و پرورش کرتے ہو اور نادار ہو اس لیے اس کے مال سے اپنا حق الخدمت لے سکتے ہو مگر تین قسم کی پابندی سے،ایک یہ کہ ضرورت سے زیادہ مال نہ لو۔دوسرے یہ کہ ضرورت سے پہلے مال نہ لو ضرورت کے وقت لو،یاولا مبادرکے معنے یہ ہیں کہ اس یتیم کے بلوغ سے پہلے اس کا مال ختم کردینے کی کوشش نہ کرو رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَا تَاۡکُلُوۡہَاۤ اِسْرَافًا وَّبِدَارًا اَنۡ یَّکْبَرُوۡا"۔تیسرے یہ کہ صرف وقتی طور پر استعمال کرو،آئندہ کے لیے جمع نہ کرو،اس سے معلوم ہوا کہ یتیم کا ولی اگر مسکین غریب ہو تو اس کے مال سے بقدر ضرورت استعمال کرے اور بلاضرورت ہاتھ نہ لگائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3355