Main Icon

باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3356

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ: "الصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَان".

وعن أم سلمة عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان يقول في مرضه: "الصلاة وما ملكت أيمانكم". رواه البيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض میں فرماتے تھے نماز ۱؎اور غلاموں کی نگرانی کرو ۲؎(بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہالصلوۃمنصوب ہےالزمواپوشیدہ فعل کا مفعول بہ یعنی نماز کی پابندی و حفاظت کرو مرتے دم تک نہ چھوڑو۔ معلوم ہوا کہ نماز بڑا ہی اہم فریضہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے خصوصیت سے اس کی وصیت فرمائی،سعادت مند اولاد باپ کی وصیت سختی سے پوری کرتی ہے۔سعادت مند امتی وہ ہے جو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی اس وصیت پر سختی سے پابندی کرے،تعالٰی توفیق دے،مؤمن مرے بعد قبر میں بھی نماز پڑھتا ہے۔
۲
؎یعنی اپنے لونڈی غلاموں سے اچھا برتاؤ کرو ان کے حقوق ادادکرو،بعض شارحین نے فرمایا کہماملکت ایمانکمسے مراد مملوکہ مال ہیں یعنی اپنے مملوکہ مالوں کا حساب رکھو ان کی زکوۃ،قربانی،فطرہ وغیرہ دیتے رہو،نماز بدنی عبادت ہے زکوۃ مالی عبادت،مگر پہلے معنے زیادہ موزوں ہیں کہ اس سے لونڈی غلاموں پر مہربانی مراد ہے،ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد تمام مملوکہ جاندار ہوں،لونڈی غلام،جانور،وغیرہ یہ حدیث بہت جامع ہے ۔بعض شارحین نے فرمایا کہ صلوۃ سے تمام حقوق الہیہ کیطرف اشارہ ہے اورماملکت ایمانکمسے تمام حقوق خلق کی جانب اشارہ ہے یعنی خالق و مخلوق کے حقوق ادا کرو حتی کہ رعایا،شاگرد،مرید،نوکر چاکر،لونڈی غلام،جانور سب پر ہی مہربانی کرو اور سب کے حقوق ادا کرو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3356