Main Icon

باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3367

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! كَمْ نَعْفُو عَنِ الْخَادِمِ؟ فَسَكَتَ، ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ الْكَلَامَ فَصَمَتَ، فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ قَالَ: "اعْفُوا عَنْهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن عبد الله بن عمر قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله! كم نعفو عن الخادم؟ فسكت، ثم أعاد عليه الكلام فصمت، فلما كانت الثالثة قال: "اعفوا عنه كل يوم سبعين مرة". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداابن عمر سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہواعرض کیا یارسول اہم خادم کو کتنی بار معافی دیں حضور خاموش رہے ۲؎اس نے پھر وہ سوال دہرایا آپ خاموش رہے پھر جب تیسری بار سوال ہوا۳؎تو فرمایا اسے ہر دن میں ستر بار معافی دو۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں عبداابن عمرو واؤ کے ساتھ ہے مگر صحیح عبداابن عمر کی یہ روایت ہے۔
۲
؎یا تو اس لیے خاموش رہے کہ اس کا یہ سوال پسند نہ آیا کیونکہ یہ بات پوچھنے کی نہیں نفسیاتی چیز ہے کہ اگر زیادہ معافی دینے سے غلام بگڑتا ہے تو کبھی کچھ سرزنش کردو،یا اس لیے خاموش رہے کہ وحی الہٰی کا انتظار تھا یا اس لئے خاموشی اختیار فرمائی تاکہ حضور کا جواب سائل کے دل میں بیٹھ جائے کہ جو چیز بہت انتظار کے بعد ملتی ہے اس کی قدر ہوتی ہے۔فقیر کے نزدیک یہ تیسری وجہ قوی ہے،اشعہ و مرقات نے پہلی دو وجہیں بتائیں۔
۳
؎یہ تینوں بار سوال ایک ہی مجلس میں ہوئے،بعض شارحین نےثمسے سمجھا کہ ان سوالوں میں کئی دن کا فاصلہ تھا کہ وہ شخص دوچار دن کے وقفہ سے آتا اور یہ سوال کرتا تھا مگر یہ صحیح نہیںثماسی لیے کہا گیا کہ سائل نے کچھ دیر جواب کا انتظار دیکھ کر پھر سوال کیا مسلسل نہ کیا۔
۴
؎عربی میں ستر کا لفظ بیان زیادتی کے لیے ہوتا ہے یعنی ہر دن اسے بہت دفعہ معافی دو،یہ اس صورت میں ہو کہ غلام سے خطاءً غلطی ہوجاتی ہو خباثت نفس سے نہ ہو اور قصور بھی مالک کا ذاتی ہو شریعت کا یا قوی و ملکی قصور نہ ہو کہ یہ قصور معاف نہیں کیئے جاتے ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3367