Main Icon

باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3347

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا صَنَعَ لِأَحَدِكُمْ خَادِمُهُ طَعَامَهُ، ثُمَّ جَاءَهُ بِهِ وَقَدْ وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ فَلْيُقْعِدْهُ مَعَه، فَلْيَأْكُلْ، وَإِن كَانَ الطَّعَامُ مَشْفُوهًا قَلِيلًا فَلْيَضَعْ فِي يَدِهِ مِنْهُ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا صنع لأحدكم خادمه طعامه، ثم جاءه به وقد ولي حره ودخانه فليقعده معه، فليأكل، وإن كان الطعام مشفوها قليلا فليضع في يده منه أكلة أو أكلتين". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب کسی کا خادم اس کے لیے کھانا تیار کرے پھر وہ کھانا لائے اور اس کی گرمی اور دھواں برداشت کرچکاہو ۱؎تو اسے اپنے ساتھ بٹھال لے کہ وہ بھی کھائے ۲؎لیکن اگر کھانا تھوڑا ہو ۳؎تو اس میں سے خادم کے ہاتھ پر ایک دو لقمے رکھ دے ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں خادم میں لونڈی غلام بلکہ نوکر چاکر سب شامل ہیں۔
۲
؎یعنی اگر کھانا کافی ہے تو اس پکانے والے خادم کو اپنے ساتھ دستر خوان پر بٹھا کر کھلائے،اسے ساتھ بٹھانے میں اپنی ذلت نہ سمجھے جیسا کہ متکبرین کا حال ہے جب مسجد اور قبرستان میں امیر و غریب،آقا و غلام یکجا ہوجاتے ہیں تو یہاں بھی یکجا ہوں تو کیا حرج ہے۔
۳
؎مشفوہ شفۃٌسے بنا بمعنی ہونٹ،مشفوہ وہ پانی یا کھانا ہے جس پر بہت سے لوگ کھانے والے جمع ہوجائیں،بہت سے منہ کھائیں،اب تھوڑے کو بھی مشفوہ کہہ دیتے ہیں اسی مناسبت سے یا مشفوہ وہ کھانا ہے جو ہونٹوں اور منہ میں لگ کر رہ جائے اچھی طرح پیٹ میں نہ جائے۔
۴
؎یہ حکم استحبابی ہے جس میں بڑی حکمتیں ہیں ان دو ایک لقموں سے کھانے پر نظر نہ لگے گی مالک کو اچھی طرح ہضم ہوگا، نقصان نہ دے گا نیز یہ مکارم اخلاق سے ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3347