Main Icon

باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3375

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَيِّئُ الْمَلَكَةِ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَلَيْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ هَذِهِ الأُمَّةَ أَكْثَرُ الأُمَمِ مَمْلُوكِينَ وَيَتَامَى؟ قَالَ: "نَعَمْ، فَأَكْرِمُوهُمْ كَكَرَامَةِ أَوْلَادِكُمْ، وَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ" قَالُوا: فَمَا تَنْفَعُنَا الدُّنْيَا؟ قَالَ: "فَرَسٌ تَرْتَبِطُهُ،تُقَاتِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ، وَمَمْلُوكٌ يَكْفِيكَ، فَإِذَا صَلَّى فَهُوَ أَخُوكَ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.

وعن أبي بكر الصديق رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "لا يدخل الجنة سيئ الملكة" قالوا: يا رسول الله! أليس أخبرتنا أن هذه الأمة أكثر الأمم مملوكين ويتامى؟ قال: "نعم، فأكرموهم ككرامة أولادكم، وأطعموهم مما تأكلون" قالوا: فما تنفعنا الدنيا؟ قال: "فرس ترتبطه،تقاتل عليه في سبيل الله، ومملوك يكفيك، فإذا صلى فهو أخوك". رواه ابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ بدخلق آدمی جنت میں نہ جائے گا ۱؎لوگوں نے عرض کیا یارسول اکیا آپ نے ہم کو یہ خبر نہ دی کہ یہ امت تمام امتوں سے زیادہ غلاموں اور یتیموں والی ہے ۲؎فرمایا ہاں تم ان پر اپنی اولاد کی طرح مہربانی کرو اور انہیں اس سے کھلاؤ جو خود کھاتے ہو ۳؎لوگوں نے عرض کیا کہ ہم کو کتنی دنیا نفع دے گی ۴؎فرمایا وہ گھوڑا جسے تم پالوجس پر اکی راہ میں جہاد کرو اور ایک غلام تمہیں کافی ہے ۵؎جب وہ نماز پڑھے تو تمہارا بھائی ہے ۶؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎سیّ الملکۃاسے کہتے ہیں جو اپنے مملوک غلاموں لونڈیوں سے بدخلقی کرے ان سے بُرا برتاؤ کرے یہ حدیث اس باب میں پہلے بھی گزر چکی ہے مگر یہاں زیادتی کے ساتھ ہے۔
۲
؎سوال کا مقصد یہ ہے کہ حضور نے خبر دی ہے کہ اس امت کو رب تعالٰی ملکوں کی فتوحات بہت دے گا جن سے ان کو غلام لونڈیاں بہت ہاتھ لگیں گی اور سب غلاموں سے اچھا برتاوا مشکل ہے تو ہم لوگ جنت میں کیسے جاسکیں گے حالانکہ حضور نے خبر دی ہے کہ میری امت زیادہ جنتی ہے حتی کہ جنتیوں کی کل ایک سو بیس صف ہوں گی اسی۸۰ میری امت کی باقی چالیس ساری امتوں کی۔
۳
؎جواب کا خلاصہ یہ ہے بڑوں کی ذمہ داریاں بھی بڑی ہوتی ہیں خدا پاک تمہیں لونڈی غلام بہت دے گا تم ان سے برتاؤ اچھا کرو، کیا بہت بال بچوں والا آدمی بچوں کی نگرانی نہیں کرتا ضرورکرتا ہے تم بھی ان غلاموں کے حقو ق پورے کرو،اس سوال میں یتیموں کا ذکر تبعًا ہے۔
۴
؎یعنی دنیا کی بہت قسمیں ہوں گی گھر بار،جائیداد، دکانیں،کھیتی باڑی،جانور وغیرہ ان میں سے زیادہ نافع کون کون سی چیز یں ہیں۔
۵
؎سبحان اﷲ!کیسا حکیمانہ جواب ہے یعنی ایک گھوڑا جو جہاد کی نیت سے پالو اور ایک غلام جو جہاد وغیرہ کے موقعہ پر خدمت کے لیے رکھو تمہاری بخشش کے لیے کافی ہے کہ اس صورت میں یہ دونوں چیزیں دنیا میں بھی نافع ہیں،آخرت میں بھی بخشش کا ذریعہ، غلام تمہارا دنیا کا کاروبار چلائے تم فارغ ہو کر رب کی یاد کرو اس سے بہتر اور کیا ہوسکتا ہے۔
۶
؎یعنی نمازی مسلمان غلام کو اپنا غلام نہ سمجھو اپنا بھائی سمجھو اور اس سے برادرانہ برابری کا سلوک کرو،یہ ہے اسلامی اخلاق اب تو لوگ اپنے سگے بھائی کو بھائی نہیں سمجھتے،باپ کو ستاتے مارتے پیٹتے ہیں رب تعالٰی اس پر عمل کی توفیق دے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3375