Main Icon

باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3350

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ"، وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ قَالَ: "أَيُّمَا عَبْدٍ أَبَقَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ"، وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ قَالَ: "أَيُّمَا عَبْدٍ أَبَقَ مِنْ مَوَالِيهِ فَقَدْ كَفَرَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِم". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جرير قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا أبق العبد لم تقبل له صلاة"، وفي رواية عنه قال: "أيما عبد أبق فقد برئت منه الذمة"، وفي رواية عنه قال: "أيما عبد أبق من مواليه فقد كفر حتى يرجع إليهم". رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جریر ۱؎سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب کوئی غلام بھاگ جائے تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی ۲؎اور ان سے دوسری روایت میں ہے فرماتے ہیں جو غلام بھاگ جائے تو اس کا ذمہ بری ہوگیا۳؎اور انہیں کی ایک روایت میں یوں ہےفرمایا جو غلام اپنے مولاؤں سے بھاگ جائے وہ کافر ہوگیا ۴؎حتی کہ ان تک لوٹ آئے ۵؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ جریر ابن عبدابجلی ہیں، کنیت ابو عمرو، حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات سے چالیس دن پہلے اسلام لائے،پھر بہت عرصہ کوفہ میں رہے،مقام قرقسیا ۵۱ھ؁ ∞ میں وفات پائی مشہور صحابی ہیں،آپ سے بہت خلق نے احادیث لیں۔(اکمال)
۲
؎یعنی بھاگے ہوئے غلام کی نماز اگرچہ شرعًا درست ہوجائے مگر اکے ہاں قبول نہیں،شرائط جواز اور ہیں شرائط قبول کچھ اور۔
۳
؎اس جملہ کا مطلب یا یہ ہے کہ اگر غلام مرتد ہو کر کفار کے ملک میں چلا جائے تو اسلام کی امان سے نکل جاوے گا اس کا قتل جائز ہوگا یا یہ مطلب ہے کہ بھاگا ہوا غلام اگر دارالسلام میں رہے تو اس سے اکی امان اٹھ جاتی ہے اس کو مارا پیٹا جاسکتا ہے یا مطلب یہ ہے کہ بھاگنے کے زمانہ کا خرچہ مالک پر نہیں اور اس زمانہ کی قباحت و جرم کا اثر مولے پر نہ ہوگا۔
۴
؎کافر سے مراد یا لغوی کافر ہے یعنی ناشکرایا شرعی کافر،تو مطلب یہ ہے کہ قریب الکفر ہوگیا یا اس نے کافروں کا سا کام کیا۔
۵
؎حتی کہ تعلق یا تو تمام روایات سے ہے اور یہ جملہ ان تینوں جرموں کی انتہا ہے یا فقط آخری جملہ سے ہے یعنی کافرو ناشکرا رہے گا لوٹ آنے تک۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3350