Main Icon

باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3373

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِالسَّبْيِ أَعْطَى أَهْلَ الْبَيْتِ جَمِيعًا كَرَاهِيَةَ أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَهُمْ. رَوَاهُ ابْن مَاجَه.

وعن عبد الله بن مسعود قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أتي بالسبي أعطى أهل البيت جميعا كراهية أن يفرق بينهم. رواه ابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس جب قیدی لائے جاتے تو آپ سارے گھر والے ایک کو اکٹھے دیتے ۱؎یہ ناپسند فرماتے ہوئے کہ ان میں جدائی ڈالیں ۲؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اس جملہ کے دو معنے ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہاھل البیتاعطیکا مفعول اول ہو اور مفعول دوم پوشیدہ یعنی غلاموں کا پورا کنبہ ماں بچے بھائی بہن وغیرہ ایک ہی مسلمان کو عطا فرماتے،یہ نہ کرتے کہ ماں کسی کو بچہ کسی کو۔دوسرے یہ کہاھل البیتمفعول دوم ہو اوراعطیکا پہلا مفعول وہ قیدی ہوں جو ابھی مذکور ہوئے یعنی وہ قیدی ایک گھر والے مؤمن کو عطا فرماتے پہلے معنے اشعۃ اللمعات نے اختیار کیے،دوسرے معنی مرقات نے،مقصد ایک ہی ہے کہ قیدی غلاموں کو اکٹھا رکھتے۔
۲
؎یہ عمل شریف اس صورت میں تھا کہ ان قیدیوں میں بعض بہت چھوٹے ناسمجھ بچے ہوتے کہ جدائی ڈالنے سے ان کی پرورش مشکل ہوجاتی اور ماں کو تکلیف ہوتی، جوان لونڈی غلاموں میں علیحدگی کرنا جائز ہے، اس سے تکلیف نہیں ہوتی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3373